مشرق وسطیٰتازہ ترین

تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کے ایصالِ ثواب کے لیے ہزاروں افراد کی شرکت، 40 روزہ سوگ کی تقریبات عروج پر

ملک کے مختلف شہروں میں بھی اسی نوعیت کے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں عوام بڑی تعداد میں شریک ہو کر مرحوم رہنما کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

By www.vogurdunews.de

تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں جمعہ کے روز ہزاروں افراد نے ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی نماز ادا کی۔ یہ اجتماع نہ صرف مذہبی عقیدت کا مظہر تھا بلکہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سیاسی اور سماجی پیغام بھی لیے ہوئے تھا۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ بڑی تعداد میں شہری مزار آیت اللہ روح اللہ خمینی پر جمع ہوئے، جہاں ملک کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی مدفون ہیں۔ اس موقع پر فضا سوگوار تھی، جبکہ شرکاء نے دعائیں، نوحہ خوانی اور اجتماعی عبادات کے ذریعے مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اجتماعی نماز کی امامت قدامت پسند مذہبی رہنما محمد جواد حاج علی اکبری نے کی، جنہوں نے اپنے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای کی خدمات، ان کی قیادت اور خطے میں ایران کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ "قوم اپنے رہنما کے مشن کو جاری رکھے گی اور بیرونی دباؤ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گی۔”

سوگ کی تقریبات اور 40 روزہ روایت

آیت اللہ خامنہ ای کے لیے سوگ کی تقریبات بدھ کے روز شروع ہوئیں، جو شیعہ اسلام کی روایتی 40 روزہ سوگ کی مدت (چہلم) کے اختتام کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ایران میں اس روایت کو انتہائی اہمیت حاصل ہے، جہاں کسی بڑی مذہبی یا قومی شخصیت کے انتقال کے بعد چالیسویں دن خصوصی اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔

ملک کے مختلف شہروں میں بھی اسی نوعیت کے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں عوام بڑی تعداد میں شریک ہو کر مرحوم رہنما کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

پس منظر: فضائی حملے اور ہلاکت

یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ہونے والے مبینہ امریکہ-اسرائیل مشترکہ فضائی حملوں کی پہلی لہر میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں شدید ردعمل کو جنم دیا، اور خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایرانی حکام نے اس حملے کو "جارحیت” قرار دیتے ہوئے اس کا سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا تھا، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

عوامی ردعمل اور سیاسی پیغام

جمعہ کے روز ہونے والا یہ بڑا اجتماع دراصل ایرانی عوام کی اپنے رہنما کے ساتھ وابستگی اور یکجہتی کا اظہار تھا۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے درج تھے۔

ماہرین کے مطابق ایسے اجتماعات نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہم پیغامات دیتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ غیر یقینی صورتحال اور کشیدگی کا شکار ہو۔

علاقائی اور عالمی اثرات

آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت اور اس کے بعد ہونے والی سوگ تقریبات نے عالمی سیاست پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن، ایران کی قیادت کے مستقبل اور ممکنہ ردعمل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری یہ عوامی اور مذہبی سرگرمیاں نہ صرف داخلی استحکام کے لیے اہم ہیں بلکہ بیرونی دنیا کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ ایرانی قوم اپنی قیادت اور نظریات کے ساتھ کھڑی ہے۔

نتیجہ

تہران میں ہونے والا یہ عظیم الشان اجتماع اس بات کا عکاس ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت اور قیادت نے ایرانی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد بھی عوام کی بڑی تعداد کا اس طرح سڑکوں پر نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ ان کا نظریہ اور اثر و رسوخ بدستور قائم ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ اجتماعات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button