
’انگلی ٹرگر پر ہے‘: ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ، خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ
ایرانی بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کی گئی تو اس کا "منہ توڑ اور دردناک جواب" دیا جائے گا
By www.vogurdunews.de
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان خاتم الانبیاء کے مرکزی ہیڈ کوارٹر نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
جمعہ کے روز جاری کیے گئے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ادارے نے کہا کہ ماضی میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی بار بار خلاف ورزیوں کے باعث ایران اب کسی بھی نئی جارحیت کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ 40 روزہ غیر متناسب جنگ اور مسلسل کشیدگی کے دوران ایرانی افواج نے اپنی جنگی تیاریوں کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا ہے۔
بیان میں امریکہ کو "مجرم” اور اسرائیل کو "بچوں کا قاتل” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان ممالک کے رہنماؤں کو ایران کی "فاتح، مضبوط اور بہادر قوم” کو دھمکانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجیمن نیتن یاہوکو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ایرانی مسلح افواج کی صلاحیتوں کا اندازہ کریں اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں۔
ایرانی بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کی گئی تو اس کا "منہ توڑ اور دردناک جواب” دیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی حکمت عملی تیار کی جا چکی ہے، اور ایران اپنے "جائز حقوق” سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
ایرانی قیادت کے مطابق سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل آف ایران نے بھی حالیہ پیش رفت کو "تاریخی کامیابی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورتحال نے امریکہ کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آئندہ مذاکرات صرف تنازع کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ جنگی حکمت عملی کے تسلسل کے طور پر دیکھے جائیں گے۔
بیان میں لبنان کی صورتحال کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا، جہاں حزب اللہ اور عام شہریوں پر حملوں کی صورت میں ایران کی جانب سے براہِ راست ردعمل کی دھمکی دی گئی۔ تہران نے واضح کیا کہ مزاحمتی محاذ کی سالمیت ایران کے لیے ایک سرخ لکیر ہے، جسے کسی بھی قیمت پر عبور نہیں کرنے دیا جائے گا۔
ابتدائی طور پر امریکہ اور اسرائیل کو فوری کامیابی کی توقع تھی، تاہم ایرانی ردعمل نے نہ صرف ان توقعات کو زائل کیا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے جوابی اقدامات نے امریکی اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا اور خطے میں مزاحمتی اتحاد کو مزید مضبوط کیا۔
دریں اثناء، پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات کے لیے دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے، جس میں خطے سے امریکی افواج کے انخلاء، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول جیسے اہم مطالبات شامل ہیں۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکہ پر عدم اعتماد بدستور قائم ہے اور مذاکرات کو محض ایک سفارتی محاذ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم دونوں جانب سے سخت بیانات اور فوجی تیاریوں کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔
عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑے تصادم کے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور امن و استحکام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



