پاکستاناہم خبریں

اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز: قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد پاکستان پہنچ گیا، اہم مذاکرات متوقع

ماہرین کے مطابق اس سطح کی نمائندگی ظاہر کرتی ہے کہ ایران ان مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور وہ سیاسی، عسکری اور اقتصادی پہلوؤں پر بیک وقت پیش رفت چاہتا ہے۔

By www.vogurdunews.de

خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ یہ دورہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے سلسلے میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اعلیٰ سطحی وفد میں سیکیورٹی، سیاسی، عسکری، اقتصادی اور قانونی کمیٹیوں کے نمائندگان شامل ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات نہایت جامع اور ہمہ جہت نوعیت کے ہوں گے۔

اعلیٰ سطحی ایرانی قیادت کی شرکت

وفد میں ایران کی اہم حکومتی اور دفاعی شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذولغدر، دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اراکین شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس سطح کی نمائندگی ظاہر کرتی ہے کہ ایران ان مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور وہ سیاسی، عسکری اور اقتصادی پہلوؤں پر بیک وقت پیش رفت چاہتا ہے۔

امریکی وفد کی آمد بھی متوقع

دوسری جانب امریکی وفد بھی اسلام آباد پہنچ چکا ہے، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف اور سابق امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان باضابطہ مذاکرات اسی صورت میں شروع ہوں گے جب امریکہ ایران کی پیشگی شرائط کو تسلیم کرے گا۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ مذاکرات "برابری اور ضمانتوں” کی بنیاد پر ہوں گے۔

جنگ بندی اور مذاکرات کی بنیاد

پس منظر میں حالیہ 40 روزہ کشیدگی اور عسکری تصادم کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جنگ بندی کی پیشکش کرنا پڑی، جسے ایران نے مشروط طور پر قبول کیا ہے۔ ایرانی مؤقف ہے کہ جنگی محاذ پر "برتری” حاصل کرنے کے بعد اب سفارتی محاذ پر بھی اپنے مطالبات منوانا ضروری ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق دو ہفتوں کی جنگ بندی کو مذاکرات کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم اگر ایران کے بنیادی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔

ایران کا سخت مؤقف

ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی "اطمینان بخش معاہدہ” طے نہ پایا یا مزاحمتی بلاک کے مفادات کو نقصان پہنچا تو نہ صرف جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ ایسی صورت میں "امریکی مفادات اور اسرائیلی اہداف” بھی شدید خطرے میں ہوں گے۔

پاکستان کا اہم سفارتی کردار

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا اس عمل میں ثالثی کردار نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک فعال سفارتی پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پس پردہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے سرگرم ہے۔

عالمی اثرات اور خدشات

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر بات چیت کامیاب رہتی ہے تو خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، بصورت دیگر ایک نئی اور ممکنہ طور پر زیادہ وسیع جنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔

فی الحال دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت خطے کے مستقبل کا تعین کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button