
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود امن مذاکرات کے لیے جمع ہو گئے ہیں۔ یہ مذاکرات خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور مستقل جنگ بندی کے امکانات کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
اعلیٰ سطحی وفود کی آمد
امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد و مشیر جیرڈ کشنر سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سکیورٹی حکام بھی شامل ہیں۔
مذاکرات کا شیڈول اور طریقہ کار
حکام کے مطابق، آج بروز ہفتہ دونوں وفود کے درمیان اعلیٰ سطحی امن مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔ ابتدائی مرحلے میں دونوں فریقین کی ثالثوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوں گی، جس کے بعد دوپہر میں باضابطہ مذاکرات کا آغاز متوقع ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نازک اور عارضی جنگ بندی برقرار ہے، جو ابتدائی طور پر دو ہفتوں کے لیے نافذ کی گئی تھی۔
پاکستان کا ثالثی کردار
پاکستان اس اہم سفارتی عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس عمل کی قیادت کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق، ملک نے حالیہ ایران-امریکہ کشیدگی کے دوران جنگ بندی کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور اب وہ اس تنازعے کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پس منظر: جنگ اور سیز فائر
یہ پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
اس تنازعے کے اثرات خلیجی ممالک تک بھی پھیل گئے، جس کے بعد عالمی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں تیز ہو گئیں۔ حالیہ سیز فائر کو ایک نازک لیکن اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات
اسلام آباد میں مذاکرات کے موقع پر سخت ترین سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس سمیت تقریباً 10 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ریڈ زون اور مذاکراتی مقام — جو ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں قائم کیا گیا ہے — کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ انٹیلی جنس ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
اہم نکات زیر بحث
ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں کئی اہم اور حساس امور زیر غور آئیں گے، جن میں شامل ہیں:
مستقل جنگ بندی کا قیام
آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھولنا
ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی پر پابندیاں
بیلسٹک میزائل پروگرام کا مستقبل
ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی
خطے میں پراکسی گروپس کی سرگرمیاں
پاکستانی قیادت اور عالمی ردعمل
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ:“اب سب سے مشکل مرحلہ درپیش ہے، جو پائیدار امن کے قیام اور پیچیدہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا ہے۔ یہ مرحلہ فیصلہ کن ثابت ہوگا۔”

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں “تعمیری انداز” اپنائیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع کو سنجیدگی سے لیں اور دیرپا امن کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے کہا کہ یہ مذاکرات کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کا ایک اہم موقع ہیں۔
غیر یقینی صورتحال اور چیلنجز
اگرچہ مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں، تاہم آخری لمحات تک ایرانی وفد کی شرکت غیر یقینی رہی۔ تہران نے اپنی شرکت کو لبنان میں ایران نواز تنظیم Hezbollah پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے سے مشروط کیا تھا۔
تاحال اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں، جو مذاکرات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔
نتیجہ: فیصلہ کن مرحلہ
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا تعین کریں گے بلکہ مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ سفارتی کوششیں ایک جامع اور دیرپا امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔



