
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران آج ایک کلیدی پیش رفت دیکھنے میں آئی، جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان حساس نوعیت کے مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، جن پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔
ملاقات میں امریکی نائب صدر کے ہمراہ خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف اور سینئر مشیر جیرڈ کوشنر بھی موجود تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔ دونوں جانب سے اعلیٰ حکام کی موجودگی اس ملاقات کی اہمیت اور اس کے ممکنہ نتائج کو نمایاں کرتی ہے۔
ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل بھی ثابت ہوں گے۔ انہوں نے دونوں وفود کی جانب سے مذاکرات میں تعمیری شمولیت کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت رویہ کسی بھی دیرپا حل کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دیتا آیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی، مکالمے اور مفاہمت کے عمل میں سہولت کاری جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات میں نہ صرف جاری مذاکرات بلکہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اور عالمی سطح پر توانائی کے بحران جیسے اہم امور بھی زیر بحث آئے۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی تلاش وقت کی اہم ضرورت ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی میزبانی اور اس کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے اور خطے میں استحکام کے قیام کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے تمام فریقین کا نیک نیتی کے ساتھ شریک ہونا ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ملاقات نہ صرف امریکہ اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ جاری امریکہ-ایران مذاکرات کے تناظر میں بھی اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنا اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اس عمل کی کامیابی خطے کے امن و استحکام پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
اسلام آباد میں جاری یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششیں جاری ہیں، اور پاکستان اس عمل میں ایک اہم اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔





