
“مناب 168”: شہید بچیوں کی یاد کے ساتھ ایرانی وفد کا سفر، دنیا کو جھنجھوڑ دینے والا منظر
امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں مناب کے پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 168 معصوم بچوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔
Published : April 11, 2026 at 7:09 PM IST
نئی دہلی : ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے والا ایرانی وفد ایک غیر معمولی اور انتہائی دردناک پیغام کے ساتھ روانہ ہوا۔ اس پرواز کو “مناب 168” کا نام دیا گیا، جو مناب میں شہید ہونے والی بچیوں کی یاد میں رکھا گیا۔ اس پرواز میں عام مسافروں کے بجائے ہر نشست پر شہید بچوں کی تصاویر، ان کے خون آلود بستے، جوتے اور ذاتی اشیاء رکھی گئی تھیں۔

یہ منظر نہ صرف ایرانی عوام کے غم کی عکاسی کر رہا تھا بلکہ دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک خاموش احتجاج بھی تھا۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف جو اس وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے سوشل میڈیا پر ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ “یہ میرے ہم سفر ہیں”۔ تصاویر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی دکھائی دیے۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایرانی فورسز کو مورد الزام ٹھہرایا، تاہم کئی آزاد عالمی اداروں نے اپنی تحقیقات میں اسے امریکی کارروائی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی پس منظر میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جہاں ایک نازک جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔





