یورپتازہ ترین

یورپی یونین کا ’سب سے کرپٹ ملک‘ ہنگری: عوامی غصہ بڑھتا ہوا

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق ہنگری یورپی یونین کے رکن 27 ممالک میں سے ''سب سے بدعنوان ملک‘‘ ہے۔

اے ایف پی کے ساتھ

ہنگری میں، جہاں برسوں سے وزیر اعظم وکٹور اوربان اقتدار میں ہیں، اتوار 12 اپریل کو قومی الیکشن ہو رہے ہیں۔ ماہرین ہنگری کو ’یورپی یونین کا سب سے کرپٹ ملک‘ قرار دیتے ہیں اور وہاں کرپشن پر عوامی غصہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

اس مشرقی یورپی ملک میں وکٹور اوربان گزشتہ 16 برسوں سے اقتدار میں ہیں اور ملکی رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد کی خواہش ہے کہ اتوار 12 اپریل کو ہونے والے قومی انتخابات کے نتیجے میں اوربان کا دور اقتدار ختم ہو جانا چاہیے۔

یورپی یونین کا ‘سب سے کرپٹ‘ رکن ملک

ہنگری میں حکمران وکٹور اوربان نے سرکاری طور پر اپنے جن اثاثوں کا باقاعدہ اعلان کر رکھا ہے، وہ کافی حد تک درمیانی سطح کے ہیں، کچھ بچتی رقوم اور ملکی دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں ایک شاندار وِلا، جس کے مالکان میں سے ایک اوربان بھی ہیں۔

وکٹور اوربان اپنا ’اسٹیٹ آف دی نیشن‘ خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹو
وکٹور اوربان اپنا ’اسٹیٹ آف دی نیشن‘ خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹوتصویر: Szilard Vörös/EST&OST/IMAGO

لیکن ملکی رائے دہندگان کا خیال ہے کہ ان کے ملک کے بارے میں جو کچھ بدعنوانی کے خلاف سرگرم بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے کہا جاتا ہے، وہ قابل یقین ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق ہنگری یورپی یونین کے رکن 27 ممالک میں سے ”سب سے بدعنوان ملک‘‘ ہے۔

اس پس منظر میں اپنے وطن میں کرپشن سے تنگ آئے ہوئے اور غیر مطمئن عام ووٹروں کی اکثریت اس حد تک غصے میں ہے کہ وہ سیاسی طور پر اس بدعنوانی کا ذمے دار وکٹور اوربان کو ٹھہرا سکتی ہے اور یوں 12 اپریل کے قومی الیکشن کے نتیجے میں اوربان کا 16 سالہ دور اقتدار ختم بھی ہو سکتا ہے۔

اوربان حکومت کے اندرونی حلقوں کی جمع کردہ دولت

ہنگری کو کافی عرصے سے کئی طرح کے سیاسی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ عوام کو اس بات کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں کہ ملکی اقتصادی ترقی کی شرح انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں افراط زر کی شرح بھی بہت زیادہ ہے اور پبلک سیکٹر میں عوام کو دستیاب سہولتوں کا معیار بھی بہت گر چکا ہے۔

ہنگری میں سیاسی اپوزیشن کی مرکزی جماعت کے وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار پیٹر مادیار
ہنگری میں سیاسی اپوزیشن کی مرکزی جماعت کے وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار پیٹر مادیارتصویر: Balint Szentgallay/NurPhoto/picture alliance

ان حالات میں عام شہریوں کی بہت بڑی تعداد اس بات پر بھی دل برداشتہ ہے کہ وکٹور اوربان کی حکومت کے اندرونی حلقوں نے مبینہ طور پر بہت زیادہ دولت جمع کر رکھی ہے۔

اس بارے میں رائے عامہ کا تجزیہ کرتے ہوئے ”ریپبلیکون‘‘ نامی تھنک ٹینک کے سیاسی تجزیہ کار زولتان رانش برگ نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ”جب تک ہمارے ملک کی اقتصادی صورت حال مقابلتاﹰ اچھی تھی، حکومت کی ابلاغ عامہ کی مشینری بھی تب تک اچھی طرح کام کرتی رہی۔‘‘

لیکن غیر جانب دار مبصرین کے مطابق اب تو کئی برس ہو چکے ہیں کہ ہنگری کی اقتصادی صورت حال اچھی نہیں ہے۔

معاشرے میں جڑیں پکڑ چکی ‘جاگیر دارانہ‘ سوچ

اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران ملکی اپوزیشن کی ایک انتخابی ریلی میں شریک تاریخ کے ایک ریٹائرڈ استاد اور اس وقت 81 سالہ شہری، گابور سبینیئے نے اے ایف پی کو بتایا تھا، ”یہ تو ہمارا پیسہ ہے، ان کا نہیں۔ لیکن وہ تو ان رقوم کو اس طرح خرچ کرتے ہیں، جیسے کہ ان جملہ مالی وسائل کے صرف وہی مالک ہوں۔‘‘

وکٹور اوربان مارچ کے آخر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، پس منظر میں ان کی سیاسی پارٹی کا نام اور سیاسی نعرہ
وکٹور اوربان مارچ کے آخر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، پس منظر میں ان کی سیاسی پارٹی کا نام اور سیاسی نعرہتصویر: Daniel Alfoldi/ZUMA/picture alliance

گابور سبینیئے اس وجہ سے بھی بہت ناراض ہیں کہ ان کے بقول تقریباﹰ 10 ملین کی آبادی والے اس وسطی یورپی ملک میں اب ”جاگیر دارانہ سوچ‘‘ جڑیں پکڑ چکی ہے۔

بوڈاپیسٹ کی ملکی پارلیمان کے ایک آزاد رکن اور ملک میں کرپشن کے خلاف سرگرم نمایاں ترین سیاسی شخصیات میں سے ایک، آکوش ہودھازی کے مطابق  2016ء سے لے کر اب تک سرکاری خزانے کو بدعنوانی اور رشوت کی وجہ سے ہونے والے سالانہ نقصانات کی مالیت 2.84 بلین یورو (3.27 بلین ڈالر) کے برابر بنتی ہے۔

‘موجودہ نظام کام ہی ایسے کرتا ہے‘

آکوش ہودھازی کے مطابق، ”ایسا نہیں ہے کہ یہ کرپشن صرف انفرادی واقعات کے نتیجے میں عمل میں آتی ہے۔ یہ دراصل وہ طریقہ ہے جس کے ساتھ موجودہ نظام کام کر رہا ہے۔‘‘

مارچ کے وسط میں برسلز میں یورپی کونسل کی سمٹ کے موقع پر لی گئی ایک تصویر: ہنگری کے وزیر اعظم اوربان اور اطالوی خاتون وزیر اعظم میلونی، پس منظر میں یورپی یونین کے کئی رکن ممالک کے لیڈر اور یورپی کمیشن کے مرکزی رہنما
مارچ کے وسط میں برسلز میں یورپی کونسل کی سمٹ کے موقع پر لی گئی ایک تصویر: ہنگری کے وزیر اعظم اوربان اور اطالوی خاتون وزیر اعظم میلونی، پس منظر میں یورپی یونین کے کئی رکن ممالک کے لیڈر اور یورپی کمیشن کے مرکزی رہنماتصویر: Monasse Thierry/ANDBZ/ABACA/IMAGO

اس کی مثال دیتے ہوئے کئی ماہرین کہتے ہیں کہ وکٹور اوربان خود تو اپنی متوسط درجے کی سماجی زندگی کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کے خاندان کے کئی ارکان 2010ء میں اوربان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک غیر معمولی حد تک امیر ہو چکے ہیں۔

ان میں وکٹور اوربان کے والد کا نام بھی شامل ہے، جن کی عمر 85 برس ہے اور نام جوئزو اوربان۔ ان کی املاک میں تعمیراتی سامان تیار کرنے والی کئی کمپنیوں کے علاوہ ایک ایسی تاریخی اور شاندار ریئل اسٹیٹ بھی شامل ہے، جس کی قیمت سینکڑوں مالیت ڈالر کے برابر بنتی ہے۔

ان حالات میں اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ 12 اپریل کے قومی الیکشن میں ہنگری کے ووٹر اپنے ملک کے لیے مستقبل کی سیاست کے کس رخ کا تعین کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button