
سعودی عرب میں پاکستانی فوجی تعیناتی، دفاعی تعاون میں اضافہ اور خطے کی کشیدہ صورتحال کا تناظر
پاکستان اور سعودی عریبیہ کے درمیان ستمبر 2025 میں ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا
By www.vogurdunews.de
ریاض: سعودی وزارت دفاع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی جنگی طیارے اور فوجی دستے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید تقویت ملی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اہم مذاکرات جاری ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق پاکستانی جنگی طیارے اور معاون فضائی جہاز مشرقی صوبے میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر تعینات کیے گئے ہیں۔ اس تعیناتی کا مقصد سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ اقدام گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا الزام ایران سے منسلک عناصر پر عائد کیا گیا۔ ان حملوں میں اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے نہ صرف سعودی معیشت بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی، جبکہ ایک سعودی شہری کی ہلاکت کی بھی اطلاع ملی۔
یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عریبیہ کے درمیان ستمبر 2025 میں ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط سٹریٹجک شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا تھا۔
سعودی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی افواج کی تعیناتی نہ صرف دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ہے بلکہ اس کا مقصد علاقائی اور عالمی امن و استحکام کی حمایت بھی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات ماضی میں بھی مضبوط رہے ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی تربیت، مشاورتی خدمات اور سکیورٹی تعاون فراہم کرتا آ رہا ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی مختلف مواقع پر پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔
اسی تناظر میں سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان حالیہ دنوں میں پاکستان کے دورے پر موجود رہے، جہاں انہوں نے پاکستان کے لیے اقتصادی تعاون اور حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس میں 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹ اور 3 ارب ڈالر مالیت کے تیل کی مؤخر ادائیگی پر فراہمی شامل تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی فوجی تعیناتی نہ صرف دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے بلکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے اور اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، یہ پیش رفت خطے کی مجموعی صورتحال کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بیک وقت سفارتی اور دفاعی کردار ادا کرنا اس کی خارجہ پالیسی کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے اور دوسری طرف اپنے اتحادی ملک کی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔


