پاکستاناہم خبریں

امریکہ اور ایران پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں تاریخی براہ راست مذاکرات ایرانی پیشگی شرائط پوری کیے جانے کے بعد شروع کیے گئے.

اگرچہ مذاکرات کو ایک دن کے لیے شیڈول کیا گیا تھا، تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کے لیے انہیں مزید ایک دن کے لیے بڑھا دیا جائے

By www.vogurdunews.de
ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار ایران اور امریکہ براہ راست مذاکرات کر رہے ہیں اور اس تاریخی پیش رفت میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
سن 1979 کے انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے اور اب تک مذاکرات بالواسطہ طور پر ہوتے رہے تھے۔ موجودہ جنگ اور علاقائی بحران کے تناظر میں، اسلام آباد میں ہونے والی یہ براہ راست بات چیت ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے براہ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے، جس میں پاکستانی حکام بھی شامل ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سہہ فریقی مذاکرات ایرانی پیشگی شرائط پوری کیے جانے کے بعد شروع کیے گئے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔
پاکستان میں جاری ان مذاکرات کا حصہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران مذاکرات میں ’’گہرے عدم اعتماد‘‘ کے ساتھ شامل ہو رہا ہے کیونکہ سابقہ مذاکرات کے دوران بھی ایران پر حملے کیے گئے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید حملوں کی صورت میں ایران جواب دے گا۔
ابتدائی گفتگو اور مشاورت کے بعد ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات عمومی امور سے آگے بڑھ کر بعض موضوعات کی تفصیلی اور تکنیکی بحث میں داخل ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت مختلف مسائل کی باریکیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔اگرچہ مذاکرات کو ایک دن کے لیے شیڈول کیا گیا تھا، تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کے لیے انہیں مزید ایک دن کے لیے بڑھا دیا جائے، البتہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
تاریخ ساز مذاکرات میں دونوں فریقین کشیدگی کے بعد پہلی بار براہِ راست ایک میز پر بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی مؤثر سفارتکاری اور عالمی قیادت کے مثبت بیانات نے جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کی امید کو مزید تقویت دی ہے، جبکہ دنیا کی نظریں ان اہم مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔
ایران اور امریکا کی معاشی، سیاسی اور قانونی ٹیکنیکل کمیٹیاں بھی ملاقاتیں کر رہی ہیں اور مذاکرات میں دونوں اطراف سے ان کے ماہرین بھی شرکت کر رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button