
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے ماہرین کی ٹیموں نے ایک گھنٹے طویل براہ راست گفتگو کے بعد تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات اب تکنیکی اور عملی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ بات چیت مختلف سطحوں پر جاری ہے، جس میں اقتصادی، فوجی، قانونی اور جوہری امور سے متعلق خصوصی کمیٹیاں شامل ہیں۔ ایران کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تکنیکی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے سرینا ہوٹل اسلام آباد میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ تازہ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا تیسرا دور بھی شروع ہو چکا ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی نافذ ہے۔ یہ تنازعہ 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوا تھا، جس نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور عالمی معیشت کو بھی شدید جھٹکوں سے دوچار کیا۔ بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی، جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کا راستہ ہموار ہوا۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی وفد قومی مفادات کے تحفظ کے لیے “مکمل طور پر پرعزم” ہے اور وہ جرات مندی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھائے گا۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مذاکرات میں شرکت تو کر رہا ہے، مگر اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں ایرانی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔ ایک سینئر امریکی اہلکار کے مختصر بیان کے مطابق بات چیت کا عمل جاری ہے، جبکہ اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا یہ رپورٹ کر چکا تھا کہ مذاکرات کے دو دور مکمل ہو چکے ہیں اور تیسرا دور جاری ہے۔
یہ پیش رفت کئی دہائیوں کے بعد ایک نایاب موقع ہے جب دونوں روایتی حریف ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر براہ راست رابطہ قائم ہوا ہے۔ ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں، اور براہ راست بات چیت نہایت محدود رہی ہے۔
موجودہ مذاکرات اپنی نوعیت اور سطح کے اعتبار سے کہیں زیادہ اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
پاکستان نہ صرف ان مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ اس عمل میں فعال سہولت کار کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو سراہا جا رہا ہے کہ اس نے امریکہ اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کو ایک میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سہہ فریقی مذاکرات اس وقت شروع ہوئے جب ایران کی بعض پیشگی شرائط پوری کی گئیں، جن میں جنوبی لبنان میں کشیدگی میں کمی بھی شامل ہے۔ مذاکرات سے قبل امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقاتیں بھی کیں، جس سے مذاکراتی عمل کے لیے فضا ہموار ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کا موجودہ مرحلہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اب بات چیت عمومی بیانات سے نکل کر عملی اور تکنیکی معاملات تک پہنچ چکی ہے۔ تحریری مسودوں کا تبادلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ فریقین کسی ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں، تاہم اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات نہ صرف خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم ہیں بلکہ ان کے اثرات عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور اقتصادی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ تاریخی موقع ایک دیرپا امن معاہدے میں تبدیل ہو پاتا ہے یا نہیں۔


