کالمزسید عاطف ندیم

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ اور ایک ناگزیر علاقائی معاہدے کی ضرورت

آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت محض ایران کے کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ اس میں عمان کا بھی کلیدی کردار ہے

دنیا کی سب سے حساس اور اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ حالیہ کشیدگی، جنگی خطرات اور اس گزرگاہ کی ممکنہ بندش نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب محض وقتی انتظامات کافی نہیں بلکہ ایک جامع، پائیدار اور علاقائی معاہدہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان نے خلیجی خطے، عالمی شپنگ اور توانائی کی منڈیوں کو وقتی ریلیف ضرور فراہم کیا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے پر آمادگی بھی ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم یہ شرط کہ جہاز اپنی نقل و حرکت ایرانی حکام کے ساتھ مربوط رکھیں، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں خلل عالمی سطح پر شدید اقتصادی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گزرگاہ کے حوالے سے ایک طویل المدتی، قانونی اور حقیقت پسندانہ حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ایران اور عمان اور دیگر خلیجی ممالک اس گزرگاہ کے براہ راست اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ یہ ممالک اپنی توانائی کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ لہٰذا ایک ایسا علاقائی معاہدہ، جس میں تمام متعلقہ فریق شامل ہوں، نہ صرف ان کے اپنے مفاد میں ہے بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
یہ ممالک نہ صرف جنگی نقصانات کے ازالے کے ذمہ دار ہیں بلکہ انہیں مستقبل کے لیے ایک ایسا نظام بھی وضع کرنا ہوگا جو کشیدگی کے دوران بھی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنا سکے۔
اقوام متحدہ نے 1945 سے اب تک مختلف قانونی فریم ورک تیار کیے ہیں جن کا مقصد عالمی تنازعات کو کم کرنا ہے۔ ان میں سب سے اہم سمندر کے قانون پر اقوام متحدہ کا کنونشن ہے، جو سمندری حدود، خودمختاری اور گزرگاہوں کے حوالے سے بنیادی اصول فراہم کرتا ہے۔
اس کنونشن کے مطابق تمام بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کو "ٹرانزٹ پاسج” کا حق حاصل ہے، جس میں بلا رکاوٹ گزرنے کی آزادی شامل ہے، اور یہ اصول آبنائے ہرمز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے اس گزرگاہ میں ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے "ٹریفک سیپریشن اسکیم” (TSS) متعارف کر رکھی ہے، جس کے تحت مغرب اور مشرق کی جانب جانے والے جہازوں کے لیے الگ الگ راستے مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ نظام نہ صرف بحری سلامتی کو یقینی بناتا ہے بلکہ تصادم کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔
معاہدوں کے قانون پر ویانا کنونشن کے تحت کوئی بھی ملک، چاہے اس نے کسی معاہدے کی مکمل توثیق نہ بھی کی ہو، اس کے بنیادی مقاصد کے خلاف اقدامات سے گریز کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ اس اصول کا اطلاق ایران جیسے ممالک پر بھی ہوتا ہے، جو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کے پابند ہیں۔یہ اصول عالمی سطح پر "روایتی بین الاقوامی قانون” کا حصہ بن چکا ہے، جسے بین الاقوامی عدالتیں بھی تسلیم کرتی ہیں۔
ایک اہم مگر کم زیر بحث پہلو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے اندر واقع کئی اہم شپنگ لینز درحقیقت عمان کے علاقائی پانیوں میں آتے ہیں۔ 25 جولائی 1974 کے ایران-عمان معاہدے کے تحت طے شدہ سمندری حدود اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت محض ایران کے کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ اس میں عمان کا بھی کلیدی کردار ہے، جو کسی بھی مستقبل کے معاہدے میں ایک اہم فریق ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق ایک مؤثر علاقائی معاہدہ درج ذیل نکات پر مشتمل ہونا چاہیے:
بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت کی ضمانت
ٹیکس یا فیس کے نظام کے لیے واضح اور متفقہ اصول
مشترکہ سکیورٹی اور نگرانی کا نظام
تنازعات کے حل کے لیے ایک شفاف اور مؤثر میکنزم
بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ہم آہنگی
ایسا معاہدہ نہ صرف کشیدگی کو کم کرے گا بلکہ اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
حالیہ بحران نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام پر غیر یقینی صورتحال پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے۔ وقتی جنگ بندی یا عارضی انتظامات مسئلے کا مستقل حل نہیں۔
اگر عالمی برادری، خصوصاً علاقائی طاقتیں، مستقبل میں استحکام اور اقتصادی سلامتی کو یقینی بنانا چاہتی ہیں تو انہیں ایک جامع، قانونی اور علاقائی معاہدے کی طرف پیش رفت کرنا ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف تنازعات کو کم کر سکتا ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو بھی محفوظ بنا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button