
حالات اپنے نگر کے بدل سکتے ہیں ! ….ناصف اعوان
حکومتیں بھی اسی طرح کا طرز عمل اختیار کرتی رہی ہیں مگر وہ( عوام) سوائے رونے دھونے کے باقاعدہ احتجاج نہیں کرتے تھے
جب ہم یہ سطور رقم کر رہے ہیں اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے مابین مزاکرات جاری ہیں ۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔اگر تو فریقین نے صبر وتحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو اگلے ایک دو روز میں امن کی فاختہ کو فضا میں سانس لیتا ہوا صاف دیکھا جا سکے گا بصورت دیگر دونوں طرف میزائلوں اور بموں کی تباہی کے مناظر ابھر رہے ہوں گے ۔ پھر یہ جنگ دنوں میں نہیں مہینوں بلکہ برسوں تک جائے گی ۔جس سے پوری دنیا کی معیشت کی ناؤ ڈوب سکتی ہے؟
ہمارا تو پہلے ہی برا حال ہے کہ آئے روز کے نئے ٹیکسوں نے جان نکالی ہوئی ہے ۔ مہنگائی پر پچھلے دنوں کنٹرول تھا مگر اب وہ شتر بے مہار ہو چکی ہے جس چیز کو بھی ہاتھ لگاؤ اس کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہوتی ہے ۔ دکاندار سے پوچھو تو وہ کہتا ہے کہ جی تیل مہنگا ہو گیا ہے لہذا اشیائے ضروریہ مہنگی ہونا ہی ہوتی ہیں مگر اس پہلو پر وہ بات نہیں کرتا کہ حکومت کی طرف سے اگر پانچ فیصد مہنگائی ہوتی ہےتو اس نے پندرہ فیصد از خود بڑھا دینا ہوتی ہیں ۔ اب جب پٹرول کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں تو ضروری ہے کہ چیزیں سستی ہونی چاہیں مگر نہیں ہو ئیں ۔
اس میں قصور وار حکومت بھی ہے کہ اسے تیل کی قیمتیں نہیں بڑھانے چاہیں تھیں اگر مچبوری بھی تھی تو چند روپے بڑھا دیتی پوری دنیا میں اس کی قیمتیں انتہائی کم بڑھا ئی گئیں مگر ہمارے ”عوام دوست“ اہل اقتدار نے پچاس روپے پہلے اور بعد میں ایک سو تیس روپے بڑھا دئیے جب کچھ شور مچا تو اسّی روپے کم کر دئیے گئے اس کے باوجود پٹرول کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے لہذا جوتے بڑے تاجروں اور دکانداروں کو موقع مل گیا ہے کہ وہ عوام کی چمڑی ادھیڑ کے رکھ دیں۔ حکومتی ادارے حرکت میں آئیں اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو قابو میں کریں مگر حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھائے اور تیل کی قیمتیں عوام کی قوت خرید کے قریب لے آئے مگر اس کی توجہ پر مرکوز ہے کہ وہ دنیا کی نگاہوں کا مرکز بنی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس نے ایران امریکا کی جنگ کو رکوانے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے اس میں چین کا بھی بہت بڑا کردار ہے مگر اسے چاہیے کہ وہ لوگوں پر اتنے ٹیکس لگائے جتنا وہ برداشت کر سکیں اس وقت ایک طرف تیل مہنگا ہے تو دوسری جانب بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور وہ فروری سے وصول کیا جائے گا ۔ بہرحال سچ یہی ہے کہ حکومت عوام کی بھلائی و فلاح کے لئے سنجیدہ نہیں ہے ۔ماضی کی حکومتیں بھی اسی طرح کا طرز عمل اختیار کرتی رہی ہیں مگر وہ( عوام) سوائے رونے دھونے کے باقاعدہ احتجاج نہیں کرتے تھے ۔اگر منظم احتجاج کیا تھا تو مزدوروں نے مگر ان کی آواز بھی دب جاتی کبھی کبھی وہ اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب بھی ہو جاتے۔آج وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ سڑکوں پر آکر کوئی بڑا مظاہرہ کر سکیں مگر یہ بھی ہے کہ اگروہ احتجاج کرتے بھی ہیں تو اس کو روکنے کے لئے ڈنڈا پریڈ کرا دی جاتی ہے کیونکہ اہل اختیار کو معلوم ہے کہ انہوں نے انہیں ووٹ نہیں دئیے مگر انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جنہوں نے ان کو ووٹ دئیے ان کا تو خیال رکھا جائے مگر نہیں وہ بھی پِس رہے ہیں؟
بہرحال اس وقت ملک عزیز مشکلات سے دوچار ہے اسے ہر طرف سے خطرات لاحق ہیں کوئی ایک خطرہ ٹلتا ہے تو دوسرا کوئی سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ لوگ اعصابی مریض بنتے جا رہے ہیں ۔ ماہرین نفسیات کے پاس بھی وہ نہیں جا سکتے کہ ان کی فیسیں ہی اتنی ہوتی ہیں کہ کوئی غریب آدمی اُدھر کا رخ ہی نہیں کر سکتا مگر حکمران اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں ۔معذرت کے ساتھ کامیابی اسے کہتے ہیں کہ جب لوگوں کے مسائل ختم ہو جائیں یا ان میں کمی واقع ہو جائے ۔ایسا ابھی ہونا باقی ہے لہذا عوام کے دل جیتنا بھی مشکل ہے تقریروں اور بھاشنوں سے مسائل حل ہوتے ہیں نہ خوشحالی آتی ہے لہذا ایسے منصوبے بنائے جائیں جو مستقلاً غربت مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ کرتے ہوں تب ہی وہ خود کو کامیاب کہہ سکیں گے جب عوام ہی ان کے کسی منصوبے اور پروگرام سے مستفید نہ ہو سکیں بلکہ ان سے انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہو تو وہ کیسے ان کے گُن گائیں گے ؟
قارئین کرام ! ہمیں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جب حکومتیں آشیر بادی ہوں تو انہیں اپنے اور ان کے مفادات عزیز ہوتے ہیں اب تک تو ایسا ہی دکھائی دیا ہے کہ جو بھی اختیارات کا قلمدان سنبھالنے آیا اس نے ان کا استعمال عوام کی بھلائی کے لئے کم ہی کیامگر ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے سطحی کاموں کا آغاز ضرور کیا قرضے لے کر بریانی کی دیگ بھی پکائی مگر اس سے بنیادی ترقی اور فائدہ نہیں ہو سکا اسی لئےآج ہم قرضوں کے بوجھ کے نیچے دب چکے ہیں جنہیں اس نظام کے تحت اپنے اوپر سے ہٹانا شاید ناممکن ہو گا کیونکہ ہمارے پاس برآمدات کے لیے مصنوعات کی بھر مار ہی نہیں کہ قوانین ہی ایسے ہیں ٹیکسوں کا نظام ہی اس قسم کا ہے اور پھر توانائی کا بحران ہے جس سے صنعتوں کی حرکت سست ہی نہیں بلکہ رکتی جا رہی ہے لہذا زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آرہی ہے ۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر یو اے اے نے اپنے دو ارب ڈالر بھی واپس مانگ لئے ہیں مگر اسے نظر ثانی کرنی چاہیے کہ کہیں اس کے لئے یہ پچھتاوا نہ بن جائے کیونکہ پاکستان کو جتنی اہمیت آج دی جا رہی ہے کبھی بھی نہیں دی گئی لہذا اس کو سوچنا چاہیے اس کی یہ کارروائی کہ اس نے پاکستانیوں کوباہر نکالنا شروع کر دیا ہے اس کے لئے مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
حرف آخر یہ کہ پاکستان کو دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورت حال سے فا ئدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اس نے امن کی کوششوں کی پہلی اینٹ رکھی ہے تو لازمی فریقین اس کے احسان مند ہوں گے لہذا اسے اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ان ملکوں سے سستا تیل گیس خرید لینا چاہیے ۔ کہ اس جنگ سے چین روس اور امریکا نے بھی فائدہ اٹھایا ہے لہذا ہمیں بھی بلا جھجک اپنے مسائل کے حل کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے ایسے مواقع کبھی کبھی ملتے ہیں !


