تازہ ترینمشرق وسطیٰ

مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ میں عالمی جنگی مداخلتیں: عرب ممالک کا کردار، سیاسی مفادات اور انسانی بحران کا تجزیہ

شام میں جاری تنازع نے بھی عالمی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت کو نمایاں کیا۔ مختلف ممالک نے مختلف گروہوں کی حمایت کی، اور اطلاعات کے مطابق اردن اور ترکی میں ایسے مراکز قائم کیے گئے

مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک نہایت پیچیدہ، حساس اور متنازعہ منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں عالمی طاقتوں کی قیادت میں ہونے والی متعدد کارروائیوں میں عرب اور مسلم ممالک نے بھی مختلف سطحوں پر شرکت کی۔ ان جنگوں کے اثرات صرف سیاسی تبدیلیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے معیشت، سماجی ڈھانچے اور انسانی زندگیوں پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
1991 میں Operation Desert Storm کے دوران امریکہ کی سربراہی میں ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد نے عراق کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ اس اتحاد میں کئی عرب ممالک شامل تھے، جنہوں نے فوجی دستے اور وسائل فراہم کیے۔ مصر نے تقریباً بیس ہزار فوجی بھیجے، شام نے چودہ ہزار، مراکش نے تیرہ ہزار، جبکہ کویت، عمان، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی ہزاروں کی تعداد میں فوجی فراہم کیے۔ اس جنگ کا بنیادی مقصد کویت کو عراقی قبضے سے آزاد کرانا بتایا گیا، لیکن اس کے نتیجے میں عراق کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا اور خطے میں طویل المدتی عدم استحکام پیدا ہوا، جس کے اثرات کئی سال تک محسوس کیے جاتے رہے۔
اس کے بعد 2011 میں Operation Odyssey Dawn کے تحت نیٹو افواج نے لیبیا میں مداخلت کی۔ اس کارروائی کو شہریوں کے تحفظ کے نام پر پیش کیا گیا، تاہم اس میں بھی بعض عرب ممالک نے عملی شرکت کی۔ قطر نے جنگی طیارے فراہم کیے، متحدہ عرب امارات نے ایف-16 اور میراج طیاروں کے ذریعے حصہ لیا، جبکہ اردن نے بھی اپنی فضائیہ کو اس آپریشن کا حصہ بنایا۔ خلیجی ممالک کی جانب سے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی۔ اس مداخلت کے نتیجے میں لیبیا کی حکومت کا خاتمہ ہوا، لیکن اس کے بعد ملک مسلسل بدامنی، خانہ جنگی اور سیاسی انتشار کا شکار رہا، جس نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔
2015 میں Operation Decisive Storm کے نام سے یمن میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا، جس کی قیادت سعودی عرب نے کی۔ اس اتحاد میں متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر، اردن، مراکش اور سوڈان سمیت کئی ممالک شامل ہوئے۔ سعودی عرب نے بڑی تعداد میں لڑاکا طیارے اور فوجی تعینات کیے، جبکہ دیگر ممالک نے فضائی اور زمینی مدد فراہم کی۔ مصر نے بھی اس اتحاد کی حمایت کی اور بحری و فضائی تیاریوں میں حصہ لیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں یمن ایک سنگین انسانی بحران کا شکار ہو گیا، جہاں قحط، بیماری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
شام میں جاری تنازع نے بھی عالمی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت کو نمایاں کیا۔ مختلف ممالک نے مختلف گروہوں کی حمایت کی، اور اطلاعات کے مطابق اردن اور ترکی میں ایسے مراکز قائم کیے گئے جہاں سے مسلح گروہوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کی جاتی رہی۔ اس پراکسی جنگ نے شام کو شدید تباہی سے دوچار کیا اور لاکھوں افراد کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا۔
ان تمام جنگی کارروائیوں کے برعکس غزہ پٹی اور فلسطین میں جاری تنازع پر عالمی ردعمل کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسرائیل فورسز کی کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکت کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد بھی نمایاں بتائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور امدادی رسائی بھی شدید متاثر رہی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان جنگوں کو مختلف بیانیوں کے تحت پیش کیا گیا۔ عراق میں کارروائی کو آزادی کی جنگ قرار دیا گیا، لیبیا میں شہریوں کے تحفظ کا جواز پیش کیا گیا، یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ شام میں جمہوریت کے قیام کا نعرہ لگایا گیا۔ تاہم ناقدین کے مطابق ان بیانیوں کے پس منظر میں جغرافیائی، سیاسی اور معاشی مفادات کارفرما تھے، جنہوں نے ان جنگوں کی سمت اور نتائج کو متاثر کیا۔
میڈیا کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ آیا اس نے ان تنازعات کی مکمل اور غیر جانبدار تصویر پیش کی یا نہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق میڈیا کا ایک حصہ ان جنگوں کو جائز قرار دینے یا مخصوص زاویے سے پیش کرنے میں کردار ادا کرتا رہا، جس نے عوامی رائے کو متاثر کیا۔
یہ تمام حقائق ایک اہم سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا یہ جنگیں واقعی امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے لڑی گئیں یا ان کے پیچھے طاقت، وسائل اور اثر و رسوخ کی سیاست کارفرما تھی۔ یہ بحث آج بھی جاری ہے اور عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنی ہوئی ہے، جس کا اثر نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button