اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

کراچی میں بڑی کارروائی: رینجرز اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن، انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان رینجرز سندھ اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک بڑی مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شہر کے صنعتی علاقے سائٹ ایریا کراچی سے کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب دہشتگرد نور عالم عرف وفادار ولد ماروت خان کو گرفتار کر لیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی، جس کے دوران دہشتگرد کو اسلحہ، ایمونیشن اور بارودی مواد سمیت حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

دہشتگرد کا پس منظر اور سرگرمیاں

ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار دہشتگرد 2014 میں فتنہ الخوارج کے سربراہ مفتی نور ولی کے گروہ میں شامل ہوا۔ دہشتگرد نے تنظیم میں شمولیت کے بعد جنوبی وزیرستان میں تربیت حاصل کی اور مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں حصہ لیا۔

حکام کے مطابق ملزم سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملوں، آئی ای ڈیز نصب کرنے اور دھماکوں میں ملوث رہا ہے۔ اس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ 2021 میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکین میں لیویز چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں اس کے دو ساتھی ہلاک ہوئے، تاہم ملزم اور اس کے دیگر ساتھیوں نے لیویز کے چھ اہلکاروں کو اغواء بھی کیا۔

افغانستان سے روابط اور نیٹ ورک

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران یہ دہشتگرد اپنے ساتھیوں سمیت افغانستان فرار ہو گیا تھا، جہاں سے وہ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ ذرائع کے مطابق ملزم فتنہ الخوارج کے کمانڈر بلال عرف طوفان کی ہدایات پر افغانستان سے دہشتگردوں کو جنوبی وزیرستان منتقل کرنے اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں بھی شامل رہا۔

کراچی میں دہشتگردی کا منصوبہ

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد گزشتہ کچھ عرصے سے کراچی میں روپوش تھا اور افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز کی ہدایات پر شہر میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے ایک نیا نیٹ ورک منظم کر رہا تھا۔ اس حوالے سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

مزید کارروائیاں جاری

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگرد کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے شروع کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

گرفتار دہشتگرد کو اسلحہ، ایمونیشن اور بارودی مواد سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

تجزیہ

ماہرین کے مطابق کراچی جیسے بڑے شہر میں دہشتگرد نیٹ ورک کا بے نقاب ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک دشمن عناصر اب بھی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائیاں ان خطرات کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

اختتامیہ:
رینجرز اور سی ٹی ڈی کی یہ مشترکہ کارروائی نہ صرف ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ اس سے کراچی میں ممکنہ بڑے دہشتگرد حملے کو بھی ناکام بنایا گیا ہے، جو سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button