پاکستاناہم خبریں

اسلام آباد مذاکرات ایک عمل ہے، تقریب نہیں: ایرانی سفیر کا اہم بیان

انہوں نے کہا کہ اس توازن نے فریقین کو اپنے مؤقف کو کھل کر پیش کرنے کا موقع دیا، جس سے مذاکراتی عمل میں سنجیدگی اور شفافیت کو فروغ ملا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی ایک وقتی تقریب کا حصہ نہیں بلکہ ایک مسلسل سفارتی عمل ہیں، جو مستقبل میں علاقائی امن و استحکام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

اپنے تفصیلی بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھی ہے جو اگر باہمی اعتماد، سنجیدہ ارادے اور مثبت نیت کے ساتھ جاری رکھا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ پیش رفت کو ایک طویل المدتی سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان کے کردار کو سراہا گیا

ایرانی سفیر نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے نہایت ذمہ داری، خلوص اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مذاکرات کے انعقاد کو ممکن بنایا۔ انہوں نے خصوصی طور پر شہباز شریف اور عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا، جن کی قیادت میں پاکستان نے ایک سازگار اور دوستانہ ماحول فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت، فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے مشترکہ طور پر انتھک محنت کی، جس کے نتیجے میں مذاکرات ایک پُرسکون، محفوظ اور منظم ماحول میں منعقد ہوئے۔ اس موقع پر مہمان وفود کو نہ صرف مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی بلکہ انہیں باوقار اور موزوں سہولیات بھی مہیا کی گئیں۔

مساوی مواقع اور سفارتی توازن

رضا امیری کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کو مساوی لاجسٹک اور سفارتی مواقع فراہم کیے گئے، جو کسی بھی کامیاب سفارتی عمل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس توازن نے فریقین کو اپنے مؤقف کو کھل کر پیش کرنے کا موقع دیا، جس سے مذاکراتی عمل میں سنجیدگی اور شفافیت کو فروغ ملا۔

ایرانی مؤقف اور ترجیحات

ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایرانی اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم نے انتہائی وقار، خود اعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے عظیم ایرانی قوم کے قومی مفادات، عوام کے خدشات اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دی۔

ان کے مطابق ایران نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے اور مذاکرات کے دوران بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھا گیا، تاکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں قومی خودمختاری اور عوامی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

علاقائی امن کے لیے امید

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سفیر کا یہ بیان نہ صرف مذاکراتی عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایران اس عمل کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی سلسلہ جاری رہتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اختتامیہ:
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات بظاہر ایک ابتدائی قدم ہیں، تاہم ایرانی سفیر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل مستقبل میں ایک وسیع اور دیرپا سفارتی فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ تمام فریقین سنجیدگی اور باہمی اعتماد کے ساتھ اس سفر کو جاری رکھیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button