
امریکی بحریہ اب آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بلاک کرنا شرو ع کر دے گی، صدر ٹرمپ کا اعلان
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکی بحریہ اب بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس بحری جہاز کو روکے گی، جس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ٹول کے طور پر کوئی رقم ادا کی ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 12 اپریل کے روز اعلان کیا کہ امریکی بحریہ اب آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بلاک کرنا شرو ع کر دے گی۔ انہوں نے یہ اعلان امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد کیا۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مابین جو امن مذاکرات کل ہفتہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوئے اور جن کے بے نتیجہ اختتام کے ساتھ ہی ایرانی اور امریکی وفود آج اتوار کو علی الصبح پاکستان سے واپس بھی چلے گئے، اس مکالمت کی ناکامی کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ہی اعلان کیا کہ امریکی بحریہ اب فوری طور پر خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو بلاک کرنا شروع کر دے گی۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکی بحریہ اب بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس بحری جہاز کو روکے گی، جس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ٹول کے طور پر کوئی رقم ادا کی ہو۔

ساتھ ہی امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ آبنائے مرہز میں امریکی نیول شپ اب ان بارودی سرنگوں کو تباہ کر کے ختم کرنا بھی شروع کر دیں گے، جو ایران کی طرف سے اس تنگ سمندری راستے میں زیر آب بچھائی گئی تھیں۔
ایران جنگ میں تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش اس لیے اقتصادی طور پر دنیا بھر کو متاثر کرنے والا اقدام ہے کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ اسی سمندری راستے سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’اب فوری طور پر امریکی بحریہ، جو دنیا کی بہترین بحری طاقت ہے، آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں کو روکنا شروع کر دے گی۔‘‘

امریکی صدر نے مزید لکھا، ’’میں نے امریکی بحریہ کو یہ ہدایت بھی کر دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس بحری جہاز کو روکے، جس نے ایران کو کوئی ٹول ٹیکس ادا کیا ہو۔ جس کسی نے بھی یہ غیر قانونی ٹول ادا کیا ہو، اسے کھلے سمندروں میں محفوظ سفر کی سہولت حاصل نہیں ہو گی۔‘‘



