
آشا بھوسلے کی وفات کی خبر پر پیمرا کا نوٹس، پاکستانی نجی ٹی وی جیو نیوز وضاحت دینے پر مجبور
ہمیشہ سے روایت رہی ہے کہ عظیم فنکاروں کی وفات پر ان کے کام کو یاد کیا جاتا ہے،اظہر عباس
اسلام آباد: برصغیر کی لیجنڈ گلوکارہ آشا بھوسلے کی مبینہ وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد جہاں دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، وہیں پاکستان میں اس خبر کی کوریج ایک نئے تنازعے کا سبب بن گئی ہے۔ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو اس حوالے سے پیمرا کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر غم کی لہر
آشا بھوسلے کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں ان کے مداحوں اور فنکار برادری نے افسوس کا اظہار کیا۔ کئی بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی اس خبر کو نمایاں انداز میں نشر کیا اور ان کے طویل کیریئر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی سوشل میڈیا پر آشا بھوسلے کی موسیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز سرحدوں سے بالاتر تھی اور انہوں نے کئی دہائیوں تک لوگوں کے دلوں پر راج کیا۔
جیو نیوز کی نشریات اور تنازع
اسی دوران جیو نیوز نے بھی آشا بھوسلے کی وفات پر ایک خصوصی رپورٹ نشر کی، جس میں ان کے گائے ہوئے مشہور فلمی گانوں کی جھلکیاں شامل تھیں۔ یہی مواد پیمرا کی نظر میں خلافِ ضابطہ قرار پایا۔
جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ چینل کو پیمرا کی جانب سے شوکاز نوٹس موصول ہوا ہے۔ انہوں نے لکھا:
“ہمیشہ سے روایت رہی ہے کہ عظیم فنکاروں کی وفات پر ان کے کام کو یاد کیا جاتا ہے، لیکن پیمرا نے اس پر پابندی لگانے کا انتخاب کیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ فن اور علم انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہیں اور انہیں سرحدوں میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
پیمرا کا مؤقف
پیمرا کے جاری کردہ شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جیو نیوز نے نہ صرف آشا بھوسلے کی وفات کی خبر نشر کی بلکہ ان کے گانوں کی فلمی ویڈیوز بھی دکھائیں، جو کہ پاکستانی قوانین کے تحت ممنوع ہیں۔
نوٹس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے اکتوبر 2018 کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا، جس میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے پاکستانی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔
پیمرا کے مطابق جیو نیوز کا اقدام:
- عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے
- پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 20 کے منافی ہے
پیمرا نے چینل انتظامیہ کو 27 اپریل کو ذاتی حیثیت میں یا وکیل کے ذریعے پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دیا ہے۔
پیمرا کے ایک ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ:
“دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی فنکار کی وفات پر مکمل پیکج صرف فلمی گانوں پر مشتمل ہو۔ خبر دینا الگ بات ہے، لیکن تفریحی مواد نشر کرنا قواعد کے خلاف ہے۔”
سوشل میڈیا پر ردِعمل
اس معاملے پر سوشل میڈیا دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آ رہا ہے۔
ایک طبقہ پیمرا کے اقدام پر تنقید کر رہا ہے اور اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور ثقافتی تبادلے کے خلاف قرار دے رہا ہے۔ ایسے صارفین کا کہنا ہے کہ آشا بھوسلے جیسے فنکار پورے برصغیر کا مشترکہ ثقافتی سرمایہ ہیں۔
دوسری جانب کچھ صارفین جیو نیوز کے اقدام کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملکی قوانین اور عدالتی فیصلوں کا احترام ضروری ہے، چاہے معاملہ کسی بھی بڑے فنکار کا کیوں نہ ہو۔
ثقافتی و قانونی بحث
یہ معاملہ ایک بار پھر پاکستان میں بھارتی مواد پر عائد پابندی، میڈیا کی آزادی، اور ثقافتی روابط کے درمیان توازن پر بحث کو جنم دے رہا ہے۔ ایک طرف قانون کی پابندی ہے، تو دوسری طرف فن اور ثقافت کی وہ دنیا ہے جو سرحدوں سے بالاتر سمجھی جاتی ہے۔
آشا بھوسلے، جنہوں نے اپنے کیریئر میں ہزاروں گانے گائے، نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان میں بھی بے حد مقبول تھیں۔ ان کا نام نور جہاں اور نصرت فتح علی خان جیسے عظیم فنکاروں کے ساتھ احترام سے لیا جاتا ہے۔
نتیجہ
جیو نیوز اور پیمرا کے درمیان یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ قانونی کارروائی یا میڈیا پالیسی میں کسی نئی تبدیلی کا پیش خیمہ بنے۔ فی الحال نظریں 27 اپریل کی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا جیو نیوز نے واقعی قوانین کی خلاف ورزی کی یا یہ محض ایک اداریاتی فیصلہ تھا جسے مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔



