
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکہ-ایران مذاکرات پاکستان کے لیے ایک تاریخی سفارتی موقع ثابت ہوئے ہیں، جن کے ذریعے خطے میں جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
پیر کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے وفود پاکستان کی درخواست پر اسلام آباد آئے، جو پاکستان کی فعال اور مخلصانہ سفارتکاری کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خطے میں امن بحال کرنے کا ایک اہم موقع ملا ہے، اور یہ پیشرفت عالمی سطح پر بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
پہلی بار براہِ راست مذاکرات
وزیراعظم کے مطابق تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ اور ایران کے وفود اسلام آباد میں آمنے سامنے بیٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق بھی ہوا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی جاری تھی اور وہ براہِ راست مذاکرات سے گریزاں رہے، تاہم پاکستان کی کاوشوں سے یہ رکاوٹ دور ہوئی اور دونوں فریقین ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔
عسکری قیادت کو خراجِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سفارتی کامیابی پر پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات ایک تاریخی واقعہ ہیں اور اس میں پاک فوج کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ:
“تاریخ فیلڈ مارشل کے کردار کو سنہری حروف میں یاد رکھے گی، جن کی قیادت میں یہ اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔”
جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششیں
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل کوششوں کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اب تک برقرار ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو اللہ کی رضا کے لیے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دعوت قبول کرنا خطے میں امن کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
مذاکرات کی تفصیلات
یاد رہے کہ پاکستان نے ہفتے کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کی میزبانی کی، جو 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہے۔ ان مذاکرات کے کئی سیشن ہوئے، تاہم یہ کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔
مذاکرات کے اختتام کے بعد دونوں ممالک کے وفود اتوار کو واپس روانہ ہوگئے، لیکن سفارتی ذرائع کے مطابق رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
مستقبل کی حکمت عملی
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک اب بھی سرگرم ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ:جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے
دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات بڑھائے جائیں
ایک جامع اور مستقل امن معاہدہ طے پایا جائے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام آ سکتا ہے۔
نتیجہ
اسلام آباد مذاکرات نے پاکستان کو ایک اہم سفارتی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جہاں وہ عالمی تنازعات کے حل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ فوری طور پر کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، تاہم جنگ بندی کا برقرار رہنا اور مذاکرات کا آغاز خود ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



