
سید عاطف ندیم-ادارت
چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بیلاروس کے اعلیٰ سطحی وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ملاقات کی، جس میں علاقائی و عالمی سلامتی کی صورتحال، باہمی دلچسپی کے امور اور پاکستان و بیلاروس کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیلاروس کے وفد کی قیادت ریاستی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر وولفووچ نے کی۔
علاقائی و عالمی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران موجودہ علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
فریقین نے خطے میں امن و استحکام، بدلتے ہوئے عالمی سکیورٹی ماحول اور مختلف نوعیت کے ابھرتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں دفاعی و سکیورٹی تعاون کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں اس بات پر بھی گفتگو کی گئی کہ پاکستان اور بیلاروس اپنے باہمی دفاعی روابط کو مزید مستحکم کرتے ہوئے سکیورٹی کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملاقات کے دوران بیلاروس کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو مضبوط بنانے کو اہمیت دیتا ہے۔
پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو دونوں ممالک کے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ ملاقات میں دفاعی اور سکیورٹی شعبوں میں تعاون کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
بیلاروس کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف
بیلاروس کے وفد کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر وولفووچ نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے عالمی اور علاقائی سطح پر امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
بیلاروسی وفد کی جانب سے اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی روابط کو مزید وسعت دینے سے باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں سکیورٹی تعاون کی اہمیت
ملاقات کے دوران عالمی سطح پر تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور اس کے خطے پر ممکنہ اثرات بھی زیر بحث آئے۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان اور بیلاروس کے درمیان رابطوں کو خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک سکیورٹی کے شعبے میں تجربات کے تبادلے اور باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
باہمی دلچسپی کے امور پر مزید رابطوں کی ضرورت
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق پایا گیا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل رابطے دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی سلامتی سے متعلق امور پر ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت اور تجربات کا تبادلہ بھی دونوں ممالک کے لیے مفید قرار دیا گیا۔
پاکستان اور بیلاروس کے تعلقات میں دفاعی شعبے کی اہمیت
پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دوطرفہ تعلقات مختلف شعبوں پر محیط ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں دفاعی اور سکیورٹی تعاون نے بھی اہمیت حاصل کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دفاعی رابطوں کا مقصد باہمی اعتماد کو فروغ دینا اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بیلاروس کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس میں دونوں جانب سے دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر فریقین نے پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعلقات کو مزید وسعت دینے، باہمی رابطوں کو جاری رکھنے اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔



