کالمزعلی عباس کاظمی

جمہوریت ۔ ۔ ۔ حسبِ ضرورت علی عباس کاظمی

اس شور میں مہنگائی، روزگار، تعلیم، صحت، توانائی، ٹیکس کا بوجھ، نوجوانوں کا مستقبل اور ریاستی اداروں پر گرتا ہوا اعتماد اکثر ثانوی موضوعات بن جاتے ہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان کی سیاست میں شاید سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب عوام کو یہ سمجھ نہ آئے کہ ملک میں فیصلے کہاں ہوتے ہیں۔ پارلیمان موجود ہو، حکومت موجود ہو، اپوزیشن موجود ہو، انتخابات ہوچکے ہوں، عدالتیں کام کررہی ہوں، میڈیا بحث کررہا ہو، مگر اس کے باوجود عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال باقی رہے کہ اصل طاقت کا مرکز کہاں ہے۔ یہی اب ہماری سیاست کا بنیادی المیہ بنتا جارہا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون حکومت میں ہے اور کون اپوزیشن میں۔ زیادہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی اتنی ہی طاقت رکھتی ہے جتنی آئین اسے دیتا ہے، کیا پارلیمان واقعی قومی فیصلوں کا مرکز ہے، کیا سیاسی جماعتیں اپنے فیصلے عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر کرتی ہیں یا طاقت کے دوسرے مراکز کو سامنے رکھ کر؟آج کا پاکستان ایک ایسے سیاسی دور سے گزر رہا ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے بیانیے میں عوام کو مخاطب کرتے ہیں،مگر عوام کی مشکلات اقتدار کی رسہ کشی میں اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہیں۔ ایک طرف اقتدار کی بقا، دوسری طرف اقتدار کی واپسی، ایک طرف سیاسی مقدمات، دوسری طرف گرفتاریوں کا احتجاج، ایک طرف انتخابی مینڈیٹ کا دعویٰ، دوسری طرف انتخابی عمل پر اعتراض۔ اس شور میں مہنگائی، روزگار، تعلیم، صحت، توانائی، ٹیکس کا بوجھ، نوجوانوں کا مستقبل اور ریاستی اداروں پر گرتا ہوا اعتماد اکثر ثانوی موضوعات بن جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں سیاست عوام کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ کم اور اقتدار کی ملکیت طے کرنے کا میدان زیادہ بن گئی ہے۔
2024 کے انتخابات نے ایک عجیب سیاسی حقیقت سامنے رکھی۔ ایک طرف ایسی جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں نے غیر معمولی عوامی حمایت حاصل کی جنہیں انتخابی عمل میں پارٹی کے روایتی نشان سمیت کئی رکاوٹوں کا سامنا تھا، دوسری طرف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد نے وفاقی حکومت تشکیل دی۔ بیرونی حکومتی جائزے بھی اس انتخابی عمل کے حوالے سے آزادی، شفافیت اور سیاسی مواقع کی برابری پر سوالات کا ذکر کرتے ہیں۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ جمہوری نظام کو پہنچتا ہے، کیونکہ جب انتخابات کے بعد بھی مینڈیٹ کی بحث ختم نہ ہو تو عوام کے ذہن میں پورا سیاسی عمل مشکوک ہوجاتا ہے۔لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انتخابی عمل پر سوال اٹھانا اور ہر انتخابی نتیجے کو صرف سازش قرار دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اگر ہر شکست کا ذمہ دار غیر مرئی قوتوں کو قرار دیا جائے اور ہر کامیابی کو مکمل عوامی انقلاب کہا جائے تو سیاست تحقیق سے نکل کر عقیدے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندر کتنی جمہوری ہیں۔ ٹکٹ کس بنیاد پر ملتا ہے، قیادت کس طرح منتخب ہوتی ہے، پارٹی کے اندر اختلاف کی کتنی گنجائش ہے، کارکن کی رائے کی کتنی اہمیت ہے اور کیا جماعت کا عام رکن قیادت سے سوال کرسکتا ہے؟ جو جماعت اپنے اندر اختلاف برداشت نہیں کرتی، وہ اقتدار میں آکر پورے معاشرے میں اختلاف برداشت کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے؟
پاکستانی سیاست کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان طاقت کے تعلق کو کبھی مستقل اصولوں کے تحت طے نہیں کیا۔ جب کوئی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو اسے طاقتور اداروں کی حمایت استحکام دکھائی دیتی ہے، لیکن جب وہی حمایت ختم ہوجاتی ہے تو اسے مداخلت کہا جاتا ہے۔ یہی تضاد ماضی میں بھی نظر آیا اور آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ موجودہ سیاسی و آئینی منظرنامہ یہ خدشہ بڑھا رہا ہے کہ جب طاقت چند ہاتھوں میں سمٹنے لگے تو جمہوری اداروں کی نگرانی اور عدلیہ کی آزادی بھی آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔یہاں ایک اہم حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ طاقت کا چند ہاتھوں میں سمٹ جانا صرف کسی ایک ادارے کا مسئلہ نہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی اس صورت حال کو پیدا کرنے میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں، جب وہ پارلیمان اور اپنے اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے ایک شخصیت کو طاقت کا مرکز بنا دیتی ہیں۔ جب پارٹی کے اہم فیصلے مشاورت اور اجلاسوں کے بجائے چند افراد کے کمروں میں ہونے لگیں، جب منتخب نمائندہ اپنے حلقے کے عوام سے زیادہ اپنی قیادت کے اشاروں کا محتاج ہوجائے اور جب سیاسی اختلاف کو دلیل کے بجائے غداری، سازش یا دشمنی کا نام دے دیا جائے تو یوں جمہوریت کی شکل تو باقی رہتی ہے، مگر اس کے اندر کا جمہوری مزاج آہستہ آہستہ کمزور ہوتا جاتا ہے۔آج تحریک انصاف اور اس کے ووٹر کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے، اس پر بات کرتے ہوئے انصاف کا ایک بنیادی اصول یاد رکھنا ضروری ہے۔ اگر کسی فرد یا کارکن نے قانون توڑا ہے تو اس کا قانونی احتساب ہونا چاہیے، لیکن سیاسی وابستگی بذات خود جرم نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح ریاستی تنصیبات پر حملہ یا تشدد کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہ ہے کہ قانون مخالف اور حامی دونوں کے لیے یکساں ہو، نہ کہ مخالف کے لیےہتھکڑی اور اپنے حامی کے لیے ڈھال بن جائے۔ قانون کی اصل طاقت تب ظاہر ہوتی ہے جب وہ دوست اور دشمن کے درمیان فرق کیے بغیر ایک ہی پیمانہ استعمال کرے۔
لیکن تحریک انصاف کو بھی اس بحث سے باہر نہیں نکالا جاسکتا۔ آج اگر وہ سیاسی آزادی، شفاف انتخابات، عدلیہ کی آزادی اور ریاستی اداروں کی غیر جانب داری کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ مطالبات اپنی جگہ جائز ہیں۔ مگر جمہوری اصول صرف احتجاج کے وقت نہیں بلکہ اقتدار کے وقت بھی زندہ رہنے چاہئیں۔ جس طرح آج اپنی جماعت کے لیے آزادی مطلوب ہے، اسی طرح کل مخالف جماعت کے لیے بھی یہی آزادی تسلیم کرنا ہوگی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے لیے بھی یہ ایک تاریخی امتحان ہے۔ حکومت حاصل کرنا سیاسی کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن جمہوریت کو مضبوط کرنا اس سے کہیں بڑا کام ہے۔ اگر حکومت اپنے مخالفین کو سیاسی میدان میں شکست دینے کے بجائے انتظامی، قانونی یا ریاستی طاقت کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کرے تو وقتی فائدہ شاید حاصل ہوجائے، مگر طویل مدت میں وہی طریقہ خود اس کے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اقتدار کی یہ گردش بارہا دیکھی جاچکی ہے۔ کل جو اختیار کسی کے لیے ہتھیار تھا، آج وہ دوسرے کے ہاتھ میں ہے۔پیپلز پارٹی کے لیے بھی موجودہ سیاست ایک خاص امتحان ہے۔ وہ ایک طرف وفاقی نظام، آئینی ارتقا اور جمہوری جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے، دوسری طرف موجودہ سیاسی بندوبست کا حصہ بھی ہے۔ یہی دوہرا کردار اس سے زیادہ واضح اصولی سیاست کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومت کا اتحادی ہونا اور حکومت کے ہر فیصلے کا دفاع کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ اگر اتحادی جماعت واقعی جمہوری توازن کی محافظ بننا چاہتی ہے تو اسے حکومت کے اندر رہ کر بھی اختلاف کی گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔
اور پھر ایک اور سوال ہے جس پر شاید سب سے کم بات ہوتی ہے۔ کیا پاکستان کی سیاسی جماعتیں واقعی عوام کو سیاسی طور پر باشعور بنانا چاہتی ہیں؟ کیونکہ باشعور ووٹر صرف نعرے پر ووٹ نہیں دیتا۔ وہ کارکردگی پوچھتا ہے، منشور پڑھتا ہے، امیدوار کا ماضی دیکھتا ہے، پارٹی کے مالی معاملات پر سوال کرتا ہے اور یہ بھی پوچھتا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وعدوں کا کیا ہوا۔ شاید اسی لیے ہمارے سیاسی ماحول میں جذباتی تقسیم زیادہ آسان اور حقیقی سیاسی تعلیم زیادہ مشکل ہے۔ جذباتی ووٹر کو منظم کرنا آسان ہے، سوال کرنے والے شہری کو مطمئن کرنا مشکل۔موجودہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان سیاسی اختلاف سے نہیں، سیاسی اختلاف کے دشمنی میں تبدیل ہونے سے ہورہا ہے۔ اگر ایک نوجوان تحریک انصاف کا حامی ہے تو اسے لازماً کسی دوسری جماعت کے ووٹر سے نفرت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کوئی مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے تو اسے تحریک انصاف کے ووٹر کو ملک دشمن سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ سیاسی اختلاف معاشرے کی صحت کی علامت ہوسکتا ہے، مگر جب اختلاف انسانی دشمنی بن جائے تو جمہوریت ہجوم میں تبدیل ہوجاتی ہے۔اسی لیے آج اصل لڑائی کسی ایک شخصیت یا جماعت کی نہیں ہونی چاہیے۔ اصل لڑائی اس سیاسی ذہن کے خلاف ہونی چاہیے جو سمجھتا ہے کہ ملک صرف اسی وقت درست سمت میں جارہا ہے جب میری پسندیدہ جماعت اقتدار میں ہو۔ اگر حکومت غلط کرے تو اس پر تنقید کرنا حب الوطنی ہے اور اگر اپوزیشن غلط کرے تو اس کی حمایت کرنا سیاسی وفاداری نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے۔ ریاست کسی جماعت کی جاگیر نہیں اور پاکستان کسی سیاسی خاندان، گروہ یا ادارے کی ملکیت نہیں۔
پاکستان اس وقت صرف سیاسی کشمکش کا شکار نہیں، وہ اعتماد کے بحران سے بھی گزر رہا ہے۔ بیرونی تجزیوں میں بھی یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ داخلی سیاسی تنازعات پاکستان کی معاشی اور خارجہ پالیسی کی صلاحیتوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ریاست کو صرف طاقتور حکومت نہیں بلکہ قابل اعتماد سیاسی نظام کی ضرورت ہے۔ کیونکہ سرمایہ کار صرف پالیسی نہیں دیکھتا، شہری صرف تقریر نہیں سنتا، نوجوان صرف وعدہ نہیں مانتا۔ سب یہ دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں قانون واقعی سب کے لیے ایک ہے یا نہیں۔اب وقت شاید اس بات کا نہیں کہ کون کس کا سہارا تھا اور کون کس کے خلاف کھڑا ہوا۔ وقت اس بات کا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے ماضی کا حساب خود بھی کریں۔ اگر کسی نے غیر منتخب طاقت سے فائدہ اٹھایا تو اسے تسلیم کرے۔ اگر کسی نے آمریت کے خلاف قربانی دی تو اسے بھی تاریخ میں جگہ ملے۔ اگر کسی نے سیاسی مخالف کے خلاف ریاستی طاقت استعمال کی تو اس پر بھی سوال ہو۔ یہی سیاسی دیانت ہے۔
پاکستان کو اب کسی نئے مسیحا، نئے ہائبرڈ بندوبست یا کسی ایک جماعت کی دائمی حکمرانی کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو حکومت بدلنے سے نہ بدلیں، ایسے انتخابات کی ضرورت ہے جن کے نتائج پر بنیادی اعتماد قائم ہو، ایسی عدالتوں کی ضرورت ہے جن کے فیصلے طاقت کے توازن سے متاثر نہ ہوں، ایسی پارلیمان کی ضرورت ہے جو صرف قانون منظور کرنے کی مشین نہ ہو بلکہ حکومت سے سوال بھی کرے اور ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جو مخالف کو ختم نہیں بلکہ شکست دینا چاہیں۔ یہ فیصلہ صرف سیاست دانوں نے نہیں کرنا۔ یہ فیصلہ عوام نے بھی کرنا ہے کہ وہ اپنے سیاسی رہنماؤں سے شخصیت پرستی مانگیں گے یا جواب دہی، نعروں کی تکرار چاہیں گے یا کارکردگی، مخالف سے نفرت چاہیں گے یا اختلاف کا حق۔ کیونکہ جس دن پاکستانی ووٹر یہ کہنا شروع کردے گا کہ میری جماعت غلط ہو تو میں اسے بھی غلط کہوں گا، اسی دن سیاسی جماعتیں بھی بدلنے پر مجبور ہوں گی۔ شاید پاکستان کی حقیقی جمہوری تبدیلی پارلیمان کی کسی نشست سے نہیں بلکہ اس دن شروع ہوگی جب ووٹر اپنے محبوب رہنما سے بھی سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کرلے گا۔ پھر شاید اقتدار کا سب سے طاقتور شخص وہ نہیں ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ طاقت ہے، بلکہ وہ ادارہ ہوگا جس کے پاس سب سے مضبوط عوامی اعتماد ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button