پاکستاناہم خبریں

افغان طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں سے روکنے میں ناکام رہی، پاکستان کا دوٹوک مؤقف

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو موجود ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ میں انکشاف

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ترجمان کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کو لاحق دہشت گردی کے مصدقہ خطرات سے نمٹنے کے بجائے بیان بازی اور توجہ ہٹانے کی کوششیں بنیادی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری اور کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکے اور اس سلسلے میں ٹھوس، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوششیں اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتیں کہ پاکستان کو افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس سے سکیورٹی خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی بیانات اور الزامات کے تبادلے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان نے اس ضمن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ، جس کا حوالہ S/2025/796 ہے، کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تقریباً 6 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق رپورٹ میں ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہونے کا بھی ذکر ہے، اس لیے ان نتائج کو محض پاکستانی پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی امن کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتا ہے، تاہم بامعنی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان حکومت انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں، نقل و حرکت اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجوؤں کا تخمینہ

پاکستان نے اپنے مؤقف کی حمایت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ کا حوالہ دیا ہے، جس میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔

پاکستان کے مطابق یہ رپورٹ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سے متعلق سکیورٹی خدشات کی اہم دستاویزی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد اور بین الاقوامی رپورٹس کی موجودگی میں مسئلے کو محض سیاسی الزام تراشی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ متعلقہ حکام کو ان خطرات کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔

ٹی ٹی پی پاکستان کے لیے ایک اہم سکیورٹی چیلنج رہی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس گروہ اور اس سے وابستہ عناصر کی جانب سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات کو دور کرنا خطے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان حکومت کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے زیرِ انتظام علاقے کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ، تربیتی مرکز یا پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا مقام نہ بنیں۔

اسلام آباد نے زور دیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دستاویزی شکل میں سامنے آنے والے سکیورٹی خدشات کا جواب عملی اقدامات سے دیا جانا چاہیے۔ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، ان کی سرگرمیوں اور ممکنہ معاون نیٹ ورکس کے بارے میں معلومات کی بنیاد پر مؤثر کارروائی ہی اس مسئلے کے حل کی طرف پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

بیان بازی کے بجائے دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات ضروری ہیں

پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ترجمان کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے لاحق دہشت گردی کے خطرات سے توجہ ہٹانے کی کوششیں قابلِ قبول نہیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے سے روکا جائے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن کے نتائج کی آزادانہ یا قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق ممکن ہو۔

اس تناظر میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے، ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی، حملوں کی منصوبہ بندی روکنے اور سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مؤثر انتظامات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق صرف بیانات جاری کرنے یا الزامات کا جواب دینے سے سکیورٹی کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جو دہشت گرد گروہوں کی عملی صلاحیت کو محدود کریں اور پاکستان کے شہریوں کو حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیں۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر پیش رفت کو محض وعدوں یا دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے جانچا جانا چاہیے۔ اس لیے افغان طالبان حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں پر قابلِ تصدیق عمل درآمد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انسانی حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھا دیا گیا

پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے حکمرانی اور شہریوں کے حقوق کے حوالے سے دوسروں کو نصیحت کرنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق ایسی باتیں اس وقت کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں جب خود افغان طالبان حکومت کے ریکارڈ پر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر مسلسل پابندیوں جیسے سنگین سوالات موجود ہوں۔

افغانستان میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم اور دیگر بنیادی حقوق سے متعلق پابندیاں طویل عرصے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ پاکستان نے اس تناظر میں کہا ہے کہ حکمرانی، شہری حقوق اور انسانی اقدار کے بارے میں مؤثر مؤقف اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکومت اپنے طرزِ عمل کا بھی جائزہ لے۔

پاکستانی مؤقف میں اس معاملے کو دہشت گردی کے سوال سے الگ ایک وسیع تر حکمرانی اور حقوق کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دوسروں کے معاملات پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی ذمہ داریوں اور اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر توجہ دینا ضروری ہے۔

تاہم پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو اٹھانے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی سکیورٹی تنازع کا مرکز افغان سرزمین سے پاکستان کو لاحق دہشت گردی کے خطرات اور ان کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ ہے۔

پاکستان مذاکرات کے لیے تیار، مگر وعدوں پر عمل درآمد ناگزیر قرار

پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ بات چیت اور مسائل کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ اسلام آباد کے مطابق مذاکرات کے ذریعے اختلافات کم کرنے، سکیورٹی خدشات دور کرنے اور خطے میں استحکام کے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کوششوں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان حکومت انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے اپنے وعدوں کو عملی شکل دے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ بامعنی مذاکرات صرف اسی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں جب ان کے نتیجے میں زمینی حقائق میں بہتری آئے اور پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے خطرات کم ہوں۔

اس مقصد کے لیے افغان طالبان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ایسے انتظامات بھی ضروری ہیں جن کے ذریعے دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، حملوں کی منصوبہ بندی اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغان علاقے کے استعمال کو روکا جا سکے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق دہشت گردی کا مسئلہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات علاقائی امن، سرحدی استحکام اور دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کا پائیدار حل پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے۔

پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ، قومی خودمختاری کے دفاع اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور اپنی سرزمین کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اسی اصول کے تحت پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو ختم کرنے کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں محض یقین دہانیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ عملی اقدامات اور ان کے قابلِ تصدیق نتائج درکار ہیں۔

پاکستان نے اپنے مؤقف میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔ اس طرح پاکستان نے ایک طرف مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی برقرار رکھی ہے تو دوسری جانب قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

علاقائی امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ذمہ داری اہم

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سکیورٹی کا معاملہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کے الزامات، ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق خدشات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو متاثر کرتے رہے ہیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق اس صورت حال میں بہتری لانے کے لیے افغان طالبان حکومت کو انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔ دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کا خاتمہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے ضروری ہے بلکہ افغانستان میں پائیدار امن اور پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے عزم کا اعادہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اختلافات کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم پاکستانی مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں، کیونکہ دہشت گردی کے خطرات کو نظرانداز کرکے دیرپا اعتماد قائم نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی بیان بازی کے بجائے دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سامنے آنے والے خدشات کو سنجیدگی سے لے اور ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان کے خلاف حملوں کا خطرہ ختم ہوسکے۔

پاکستان کا واضح پیغام ہے کہ وہ پُرامن مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا خاتمہ ہی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button