مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران جنگ کے باعث خلیجی ایل این جی برآمدات بدستور متاثر

 ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں قطر کی تقریباً 17 فیصد برآمدی صلاحیت متاثر ہوئی ، جس سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
روئٹرز کے ساتھ

مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں کچھ بہتری آئی ہے، مگر قطر کی ایل این جی تنصیبات بدستور متاثر ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل تنازع حل نہ ہونے تک گیس کی ترسیل محدود اور عالمی منڈی دباؤ میں رہے گی۔

قطر امریکہ کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ایل این جی پیدا کرنے والا ملک ہے اور عالمی پیداواری صلاحیت کا تقریباً پانچواں حصہ، یعنی سالانہ قریب 8 کروڑ ٹن، اسی کے حصے میں آتا ہے۔

ایران جنگ کے آٹھویں ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ قطر کی توانائی کی صنعت کو بڑا  دھچکا پہنچا ہے۔ کشیدگی کے آغاز اور آبنائے ہرمز  کی بندش کے بعد ملک کو راس لفان میں واقع اپنی اہم ایل این جی تنصیبات کا بڑا حصہ بند کرنا پڑا۔

ایرانی حملوں کے قطری ایل این جی برآمدات پر گہرے اثرات

ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں قطر کی تقریباً 17 فیصد برآمدی صلاحیت متاثر ہوئی ، جس سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہے۔

ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں قطر کی تقریباً 17 فیصد برآمدی صلاحیت متاثر ہوئی ہےتصویر: AFPTV/AFP

ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ تنصیبات کی مکمل بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس معاشی دھچکے کے باعث آئی ایم ایف نے 2026 میں قطر کی معیشت کے 8.6 فیصد سکڑنے کی پیش گوئی کی ہے،  جبکہ جنگ سے قبل 6.1 فیصد نمو متوقع تھی۔ قطر اور متحدہ عرب امارات کی گیس برآمدات میں کمی نے عالمی ایل این جی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا، تاہم عالمی منڈی میں پیدا ہونے والا سپلائی کا خلا پوری طرح پُر نہیں ہو سکا۔

قطر کی ایل این جی برآمدات میں شدید رکاوٹوں اور پڑوسی متحدہ عرب امارات کی برآمدات میں کمی نے عالمی گیس منڈیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس سپلائی بحران کے اثرات کو کسی حد تک  امریکہ کی جانب سے ایل این جی برآمدات میں اضافے نے کم کیا، جہاں 2026 میں برآمدات تقریباً 14 فیصد بڑھ کر 12 کروڑ 30 لاکھ ٹن تک پہنچ گئیں۔ تاہم اس اضافے کے باوجود عالمی ایل این جی مارکیٹ میں پیدا ہونے والا بڑا خلا برقرار رہا، جس کے باعث توانائی کی عالمی رسد اور قیمتوں پر دباؤ بدستور موجود ہے۔

 اگرچہ قطر نے آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد پیداوار بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم ماہرین کے  مطابق قطر کی ایل این جی صنعت جلد جنگ سے پہلے والی معمول کی صورتحال میں واپس نہیں آ سکے گیتصویر: Marcus Brandt/dpa/picture alliance

سب سے زیادہ متاثر خطے

خلیجی سپلائی میں رکاوٹوں کا سب سے زیادہ اثر ایشیا اور یورپ پر پڑا، جہاں ایل این جی کی درآمدات پر زیادہ انحصار ہے۔ ستمبر کے آخر میں ایل این جی کی قیمتیں 2023 کے اوائل کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔  اگرچہ قطر نے آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد پیداوار بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم ماہرین کے  مطابق قطر کی ایل این جی صنعت جلد جنگ سے پہلے والی معمول کی صورتحال میں واپس نہیں آ سکے گی۔

تیل کی برآمدات میں بحالی اور ایل این جی کی برآمدات میں جمود اس بات  کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں صنعتوں کے کام کرنے کے طریقہ کار اور ساخت میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button