
سید عاطف ندیم-ادارت
لاہور: صوبائی وزیر کھیل و توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر نے یونیورسٹی آف لاہور میں ’’کوپ اِن مائی سٹی‘‘ (COP in My City) کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں شرکت کے موقع پر ماحولیاتی تبدیلی، موسمیاتی تحفظ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے حوالے سے اپنے خطاب میں کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی موجودہ دور کا ایک اہم عالمی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور عوام کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
صوبائی وزیر ملک فیصل ایوب کھوکھر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں ماحولیاتی تحفظ اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صاف اور سرسبز پنجاب کا قیام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے سرکاری اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے۔ کوئی بھی حکومت تنہا ماحولیاتی تبدیلی جیسے وسیع اور پیچیدہ چیلنج پر قابو نہیں پا سکتی، اس لیے سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، کاروباری طبقے اور عام شہریوں کو ماحولیاتی بہتری کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یونیورسٹیوں میں ماحولیاتی تبدیلی اور موسمیاتی تحفظ کے موضوعات پر خصوصی لیکچرز، سیمینارز اور آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد ایک مثبت اقدام ہے۔ تعلیمی ادارے نہ صرف نوجوان نسل میں ماحولیاتی شعور اجاگر کر سکتے ہیں بلکہ تحقیق، جدید سائنسی طریقوں اور عملی منصوبوں کے ذریعے ماحولیاتی مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ملک فیصل ایوب کھوکھر نے کہا کہ نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے اور اسے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات، فضائی آلودگی، پانی کے تحفظ، شجرکاری اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی، تاہم مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ماحولیاتی تبدیلی اور موسمیاتی تحفظ کے معاملات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی، مؤثر اقدامات اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ماحولیاتی قوانین اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد، غیر ضروری آلودگی میں کمی، صفائی کا خیال رکھنے اور ماحول دوست عادات اپنانے سے ان مسائل کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے نوجوانوں، اساتذہ، محققین اور سماجی تنظیموں کی تجاویز اور عملی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاہم یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق اور علمی سرگرمیوں کو معاشرتی ضروریات سے منسلک کرکے ماحولیاتی مسائل کے مؤثر اور پائیدار حل تلاش کیے جا سکتے ہیں۔



