اہم خبریںپاکستان

پاکستان:JMICC میں میری ٹائم سیفٹی اور سیکیورٹی پر بین الاقوامی سیمینار کا شاندار انعقاد

پاکستان نیوی کی آٹھویں میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ کی اختتامی تقریب پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں منعقد ہوئی.

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (JMICC) کی میزبانی میں میری ٹائم سیفٹی اور سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں متعدد ممالک کے بین الاقوامی رابطہ افسران (International Liaison Officers)، میری ٹائم سیکیورٹی ماہرین، بحری حکام، اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔

جس کے مہمانِ خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تھے۔ تقریب میں ملکی بحری سلامتی، بلیو اکانومی، جیو پولیٹکس اور بحرِ ہند کے اسٹریٹجک منظرنامے کے حوالے سے اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر سمندری سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں اور جدید حکمتِ عملیوں کا فروغ تھا۔

بلیو اکانومی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت

اختتامی خطاب میں سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کی بلیو اکانومی کو ملکی ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر اکیسویں صدی میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور دنیا بھر میں ممالک اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بحری وسائل پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔

پاکستان نیوی کی خدمات کو خراجِ تحسین

چیئرمین سینیٹ نے علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی اور قومی سمندری سرحدوں کے دفاع کے لیے پاکستان نیوی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ نہ صرف ملکی دفاع کا مضبوط ستون ہے بلکہ قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ سمندری اہمیت کے بارے میں آگاہی کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے میری ٹائم سیکٹر میں موجود وسیع صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جہاز رانی اور ماہی گیری کے شعبوں میں استعداد کار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی کو مزید تقویت مل سکے۔

مہمانِ خصوصی کا استقبال اور ورکشاپ کا جائزہ

تقریب میں آمد کے موقع پر چیئرمین سینیٹ کا استقبال چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کیا۔ اس موقع پر کمانڈانٹ پاکستان نیوی وار کالج ریئر ایڈمرل سہیل احمد عزمی نے استقبالیہ خطاب کیا اور ورکشاپ کی سرگرمیوں، مباحثوں اور سیشنز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

سیمینار کا ایجنڈا اور موضوعات

تقریب کے دوران مختلف سیشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں میری ٹائم سیکیورٹی، سمندری حدود کی حفاظت، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام، اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کی بہتری، اور میری ٹائم ڈومین آگاہی (MDA) کو مضبوط بنانے جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
بین الاقوامی افسران کی جانب سے پیش کی گئی بریفنگز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، معلومات کے بروقت تبادلے، اور کثیر ملکی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

JMICC کی قیادت کا خطاب

JMICC کے سینئر افسران نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں سمندری راستے عالمی تجارت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے سمندری تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا نہ صرف علاقائی ممالک کے لیے ضروری ہے بلکہ بین الاقوامی معیشت کا بھی اہم تقاضا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ JMICC خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور اس کے پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور رابطہ کار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

علاقائی تعاون کی اہمیت

سیمینار میں شریک ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ سمندر میں درپیش چیلنجز کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کا اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔ اس لیے مشترکہ معلومات، مربوط پالیسیوں اور باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کے ذریعے میری ٹائم خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ مشترکہ آپریشنز، معلوماتی نیٹ ورکس اور تکنیکی اپ گریڈیشن کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سمندری حدود کو غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

بین الاقوامی افسران کی آراء

مختلف ممالک سے آئے افسران نے JMICC کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فورم خطے میں میری ٹائم تعاون کا ایک مضبوط مرکز ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی وہ پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر میری ٹائم سیفٹی کو بہتر بنانے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

سیمینار کا اختتام اور اہم توقعات

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس طرح کے سیمینارز کے تسلسل سے خطے میں نہ صرف میری ٹائم سیکیورٹی مزید مضبوط ہوگی بلکہ مشترکہ اہداف کے حصول میں بھی اہم پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
شرکاء نے کہا کہ بڑھتے ہوئے علاقائی چیلنجز کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں، رابطے مضبوط کریں اور جدید میکانزم کے ذریعے سمندری سلامتی کو یقینی بنائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button