
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی کے ساتھ
مئی 2025 کا مہینہ جنوبی ایشیا کے دو روایتی حریفوں، پاکستان اور بھارت، کے لیے ایک اور نازک موڑ ثابت ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان اچانک پیدا ہونے والی فضائی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا بلکہ عالمی سفارتی حلقوں میں بھی گہری تشویش کی لہر دوڑا دی۔ اس کشیدگی کے دوران مختلف دعوے، تردیدیں، اور اعترافات منظرِ عام پر آئے، جنہوں نے اس واقعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
کشیدگی کی ابتدا: فضائی حدود کی خلاف ورزی یا دفاعی حکمتِ عملی؟
مئی کے آغاز میں بھارت نے پاکستان پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے بھرپور دفاعی ردعمل دیا۔ دونوں جانب سے لڑاکا طیارے فضا میں سرگرم رہے اور کئی مقامات پر عملاً فضائی جھڑپیں ہوئیں۔ اسی دوران پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں رافال اور سخوئی شامل تھے۔
پاکستانی فضائیہ نے ان کارروائیوں کو "دفاعی ردعمل” قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی فضائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے۔ پاکستانی وزیر دفاع، خواجہ آصف، اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پریس کانفرنسز اور عالمی میڈیا بریفنگز میں ان دعوؤں کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔
عالمی توجہ: امریکی صدر کا بیان منظر پر
چند ہی دنوں بعد، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مئی 2025 کے دوران "جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی فضائی کشیدگی میں کم از کم پانچ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے گئے۔” یہ بیان نہ صرف پاکستان کے دعوے کی عالمی سطح پر ایک بڑی توثیق تھا بلکہ بھارتی حکومت کے لیے ایک سفارتی جھٹکا بھی۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد واشنگٹن میں بھارتی سفارتکاروں نے ہنگامی ملاقاتیں کیں، جبکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس بیان پر تفصیلی تجزیے اور مباحثے دیکھنے کو ملے۔
بھارتی حکومتی صفوں میں پہلی دراڑ: سبرامینن سوامی کا بیان
اسی دوران، بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر قانون سبرامینن سوامی نے ایک تقریب میں اعتراف کیا کہ:
"حالیہ فضائی جھڑپوں میں پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی طیارے گرائے، اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ ہم مستقبل کی پالیسی بہتر بنا سکیں۔”
یہ بیان بھارتی سیاسی منظرنامے میں ایک زلزلے سے کم نہیں تھا، کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب حکمران جماعت کے کسی اعلیٰ رکن نے پاکستان کے دعوے کی تائید کی۔
سرکاری مؤقف میں ابہام، فوجی قیادت محتاط
بی جے پی کے دیگر رہنماؤں نے سبرامینن سوامی کے بیان سے فاصلہ اختیار کیا، جبکہ بھارتی فوج اور فضائیہ کی قیادت نے ابتدائی طور پر اس پر کوئی واضح ردعمل نہیں دیا۔ بعدازاں، بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے تاخیری بیان میں کہا کہ بھارت نے "پاکستان کے کم از کم پانچ طیارے مار گرائے ہیں” اور یہ کارروائیاں روسی ساختہ ایس-400 میزائل نظام کے ذریعے کی گئیں۔
تاہم تجزیہ کاروں نے اس بیان کو "دباؤ کا نتیجہ” قرار دیا، اور سوال اٹھایا کہ اگر بھارت کے پاس واقعی الیکٹرانک شواہد تھے، تو تین ماہ تک وہ منظرِ عام پر کیوں نہ لائے گئے؟
بین الاقوامی میڈیا اور سیٹلائٹ امیجری: کس کی بات سچ؟
مئی کی کشیدگی کے بعد کئی عالمی نشریاتی اداروں اور سٹیلائٹ کمپنیوں نے علاقے کی تصاویر جاری کیں، جن میں بھارت کے بعض فضائی اڈوں پر دھماکوں کے آثار اور تباہ شدہ ڈھانچے دیکھے گئے۔ اس کے برعکس پاکستان کے فضائی بیڑے میں کسی بڑے نقصان کی نشان دہی نہیں ہوئی۔
متعدد عالمی دفاعی تجزیہ کاروں، بشمول جینز ڈیفنس اور آئی ایچ ایس مارکِٹ، نے بھی اس بات کا عندیہ دیا کہ بھارت کو اس کشیدگی میں زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔
سفارتی سرگرمیاں: خاموش سفارتکاری اور جنگ بندی
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، چین، امریکہ، سعودی عرب اور ترکی نے دونوں ممالک کے ساتھ خاموش سفارتکاری کا آغاز کیا۔ تین دن کی شدید کشیدگی کے بعد غیر رسمی جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے اپنے طیارے واپس بلا لیے اور فضائی حدود کی نگرانی سخت کر دی گئی۔
تجزیہ: سچ کیا ہے اور کتنا چھپایا گیا؟
مئی 2025 کی یہ فضائی کشیدگی جنوبی ایشیا میں جاری طاقت کے توازن کی پیچیدگیوں کو ایک بار پھر نمایاں کر گئی۔ پاکستان کے بروقت بیانات، عالمی میڈیا تک رسائی اور آزاد مبصرین کی موجودگی نے اس کے مؤقف کو نسبتاً زیادہ مضبوط بنایا، جبکہ بھارت کی تاخیری وضاحتیں، متضاد بیانات اور سیاسی قیادت کی خاموشی اس کے دعووں پر سوالیہ نشان بن گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ دونوں ممالک مکمل جنگ سے بچ گئے، لیکن ایسے واقعات دونوں طرف کے سیاسی اور عسکری فیصلوں میں شفافیت، حکمت، اور احتیاط کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
نتیجہ: خطے میں امن کی ضرورت
مئی 2025 کا یہ واقعہ ایک وارننگ ہے کہ معمولی غلط فہمی یا جارحانہ سیاسی بیانیہ پورے خطے کو جنگ کی دہلیز تک لا سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اپنی افواج کے درمیان رابطے بہتر بنائیں بلکہ عالمی معیارات کے مطابق شفافیت کو فروغ دیں۔ سچ چھپانے یا بیانیہ بنانے کی دوڑ میں نقصان صرف سچائی کا ہی نہیں، بلکہ کروڑوں عوام کا ہو سکتا ہے۔



