
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی،آئی ایس پی آر کے ساتھ
پاکستان کی مسلح افواج نے مادرِ وطن کے عظیم سپوت، نشانِ حیدر حاصل کرنے والے نوجوان شہید پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو ان کی 54ویں برسی پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اس موقع پر ملک کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے ایک متفقہ بیان میں راشد منہاس شہید کی قربانی کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب قرار دیا۔
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف؛
جنرل ساحر شمشاد مرزا، نشانِ امتیاز، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی؛
ایڈمرل نوید اشرف، نشانِ امتیاز، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف دی نیول اسٹاف؛
اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف دی ائیر اسٹاف،
نے ایک مشترکہ پیغام میں راشد منہاس کی قربانی کو قومی جذبے، وفاداری، اور عسکری بہادری کا عکاس قرار دیا۔
قومی تاریخ کا روشن ترین لمحہ
20 اگست 1971 کو پیش آنے والا وہ لمحہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا جب صرف 20 سالہ نوجوان، پائلٹ آفیسر راشد منہاس نے وطن سے غداری کے ارادے سے طیارہ اغوا کرنے والے اپنے انسٹرکٹر کو روکنے کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ جہاز کو دشمن کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے انہوں نے جہاز زمین سے ٹکرا دیا اور یوں جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی یہ قربانی پاکستان کی فضائیہ ہی نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے بہادری، وفاداری اور غیر متزلزل حب الوطنی کی اعلیٰ ترین مثال بن گئی۔
نشانِ حیدر: شجاعت کا اعلیٰ ترین اعزاز
راشد منہاس شہید پاکستان فضائیہ کے وہ واحد افسر ہیں جنہیں "نشانِ حیدر” سے نوازا گیا — یہ پاکستان کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز ہے جو دشمن کے خلاف بے مثال بہادری کے مظاہرے پر دیا جاتا ہے۔ اُن کی قربانی آج بھی ہر محب وطن پاکستانی کے دل میں زندہ ہے، اور افواجِ پاکستان کے لیے ایک عظیم ورثے کی حیثیت رکھتی ہے۔
مسلح افواج کا عزمِ نو
مسلح افواج نے راشد منہاس شہید کی یاد میں جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُن کی قربانی باہمی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور مادرِ وطن کے لیے ہر قیمت چکانے کے عہد کی عملی تفسیر ہے۔ یہ قربانی نہ صرف قوم کو دشمن کے سامنے جھکنے سے بچاتی ہے بلکہ ہر پاکستانی کو یہ احساس دلاتی ہے کہ آزادی کوئی عطیہ نہیں، بلکہ قربانیوں سے حاصل شدہ نعمت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ:
"راشد منہاس کا تاریخی عمل، جس میں انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے قربانی کا راستہ چنا، ہمارے قومی ضمیر کو اس لازوال حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ آزادی کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ دینا قوم کے حقیقی سپوتوں کی پہچان ہے۔ ان کا جذبہ اور ایمان ہمیشہ ہمارے عزم کو تقویت دیتا رہے گا۔”
قوم کا خراجِ تحسین
راشد منہاس کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جہاں تعلیمی اداروں، عسکری تربیت گاہوں، اور یادگاری مقامات پر شہید کو سلامی دی گئی۔ ان کے مزار پر اعلیٰ عسکری قیادت نے پھول چڑھائے اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ نوجوانوں اور کیڈٹس کے لیے ان کی زندگی ایک نمونہ ہے جسے افواجِ پاکستان کے ہر شعبے میں شامل نئے افسران کے تربیتی مراحل میں بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔
ایک لازوال نشان
راشد منہاس شہید کا نام ہمیشہ وفاداری، غیرت، حوصلے، اور قومی فخر کی علامت رہے گا۔ ان کی شہادت ایک ایسی روشنی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے راہ متعین کرتی رہے گی۔ پاکستان کی مسلح افواج اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ وہ ان تمام اقدار کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی جن کی راشد منہاس نے جان دے کر حفاظت کی۔
پائلٹ آفیسر راشد منہاس کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے ایک لمحہ بھی ہچکچاہٹ کا نہیں، بلکہ عمل، عزم اور ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کے نقشِ قدم پر چل کر ہی ہم پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار اور پُرامن ملک بنا سکتے ہیں۔



