
سید عاطف ندیم-پاکستان:
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران منشیات کے استعمال اور اس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے نہ صرف حکومتی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ والدین، اساتذہ اور معاشرتی حلقوں میں بھی بے چینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ ملک کی جامعات، کالجز اور اسکولوں میں نوجوان طلبہ کی بڑی تعداد نشے کی لت کا شکار ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب منشیات کی ترسیل کے لیے جدید اور نت نئے طریقے بھی اپنائے جا رہے ہیں، جن میں کوریئر کمپنیوں کا استعمال خاص طور پر قابلِ تشویش ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں سنجیدہ سوالات، تشویش کا اظہار
بدھ کے روز رکن قومی اسمبلی راجہ خرم نواز کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے منشیات کی روک تھام کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس بریفنگ میں سامنے آنے والی تفصیلات نے اراکین کو حیرت میں ڈال دیا۔
اے این ایف کے ڈائریکٹر انفورسمنٹ بریگیڈیئر سید عمران علی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ملک میں منشیات کے خاتمے کے لیے 32 سرکاری ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس انکشاف پر کمیٹی کے اراکین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر اتنے زیادہ ادارے موجود ہیں تو منشیات کے پھیلاؤ میں کمی کیوں نہیں آ رہی؟
اربوں کے بجٹ کے باوجود نتائج مایوس کن
رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے سوال کیا کہ اگر اے این ایف کو سالانہ اربوں روپے کا بجٹ دیا جاتا ہے تو ان وسائل کا کیا استعمال ہو رہا ہے؟ منشیات کی وبا پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا؟ اس پر بریگیڈیئر عمران علی کا کہنا تھا کہ اے این ایف کے پاس صرف 3200 افراد پر مشتمل عملہ ہے، جو کہ پورے ملک میں کارروائیوں کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فورس ہر سال کئی ٹن منشیات ضبط کر کے تلف کرتی ہے، اور گرفتار افراد میں سے 75 فیصد کو سزا بھی دلوائی جاتی ہے، لیکن ملک میں موجودہ حالات وسائل سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔
کوریئر کمپنیاں: ایک نیا چیلنج
اجلاس کے دوران رکن اسمبلی عبدالکبیر پٹیل نے توجہ دلائی کہ اب منشیات کی ترسیل میں کوریئر کمپنیوں کا کردار بھی سامنے آ رہا ہے۔ بیرونِ ملک اور مقامی سطح پر کوریئر سروسز کے ذریعے منشیات پاکستان بھیجی جا رہی ہیں۔ اے این ایف حکام نے اعتراف کیا کہ اس حوالے سے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کوریئر کمپنیوں کی ریگولرائزیشن وزارتِ تجارت کے دائرہ کار میں آتی ہے، جس کے باعث اے این ایف براہ راست کارروائی نہیں کر سکتی۔
تعلیمی ادارے خطرے میں: طلبہ میں منشیات کا بڑھتا رجحان
اجلاس میں چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں اس نشے کی لعنت سے تباہ ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کا جڑ سے خاتمہ اب قومی سلامتی کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
اے این ایف کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر تعلیمی اداروں کے ارد گرد منشیات کی روک تھام کے لیے ایک جامع پلان بنایا گیا ہے۔ اب تک 263 تعلیمی اداروں کے گرد کریک ڈاؤن کیا جا چکا ہے اور منشیات کے خلاف آگاہی مہمات بھی جاری ہیں۔
’سنتھیٹک اور پارٹی ڈرگز‘ کا خطرناک رجحان
اجلاس میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ اب روایتی منشیات کے بجائے سنتھیٹک اور پارٹی ڈرگز جیسے آئس، ایکسٹسی، ایم ڈی ایم اے وغیرہ کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، خصوصاً شہری علاقوں میں نوجوانوں کی پارٹیز ان نشہ آور اشیاء کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔
اراکین نے خاص طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں اس رجحان پر گہری تشویش ظاہر کی، جہاں پارٹی کلچر کے ساتھ ساتھ منشیات کا استعمال بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ایئرپورٹس پر بھی حفاظتی اقدامات ناکافی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ایئرپورٹس کی سکیورٹی پر بھی سوال اٹھائے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ بیشتر ایئرپورٹس پر اسکینرز ناکارہ یا ناقص ہیں، جس کی وجہ سے منشیات کے بھرے بیگز اسکین کیے بغیر ہی بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ حکام نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے کئی کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور سکیورٹی کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔
ادارہ جاتی ہم آہنگی اور اصلاحات ناگزیر
اجلاس میں مجموعی طور پر یہ رائے سامنے آئی کہ اگرچہ منشیات کی روک تھام کے لیے ادارے موجود ہیں، لیکن باہمی تعاون، مؤثر قانون سازی، ٹیکنالوجی کا استعمال اور نوجوانوں میں شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ منشیات کی اس "خاموش جنگ” کو جیتنے کے لیے محض اجلاس کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات، سخت قوانین اور عوامی شمولیت ہی اس وبا کے خاتمے کی ضمانت بن سکتی ہے۔



