
سلیمانکی میں پاکستان رینجرز (پنجاب) کا بھرپور ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری — درجنوں افراد اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل، فری میڈیکل کیمپس قائم
“ہم نے علاقے کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری ایکشن پلان تیار کیا، جس کے تحت ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے ان کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔”
سلیمانکی (رپورٹ) — پاکستان رینجرز (پنجاب) کی جانب سے سلیمانکی اور گردونواح میں شدید سیلابی صورتحال کے دوران بروقت اور مؤثر ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، جس کے تحت اب تک 55 سے زائد افراد اور 150 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ رینجرز کی جانب سے اس ہنگامی صورتحال میں نہ صرف جانوں کو بچانے کا کام کیا گیا بلکہ متاثرہ افراد کو صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
سیلاب میں پھنسے افراد کی فوری منتقلی
سلیمانکی اور قریبی دیہاتوں میں دریائی پانی کے اچانک بہاؤ سے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے۔ کئی خاندان اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے، تاہم پاکستان رینجرز (پنجاب) نے فوری طور پر کشتیاں اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کیں۔ شدید بارش اور دشوار گزار راستوں کے باوجود رینجرز اہلکاروں نے 55 افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، کو بروقت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
رینجرز کے ایک ترجمان کے مطابق:
“ہم نے علاقے کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری ایکشن پلان تیار کیا، جس کے تحت ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے ان کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔”
مویشیوں کی منتقلی: دیہی معیشت کو سہارا
دیہی علاقوں میں مویشی عوام کی معیشت کا بنیادی جزو ہوتے ہیں، اور اکثر قدرتی آفات کے دوران انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تاہم اس آپریشن میں پاکستان رینجرز نے 150 سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ علاقوں میں منتقل کیا، تاکہ مقامی لوگوں کی روزی روٹی بھی محفوظ رہے۔
فری میڈیکل کیمپ: صحت کی بروقت سہولت
پاکستان رینجرز (پنجاب) نے سلیمانکی میں فری میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا جہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے۔ کیمپ میں ماہر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف تعینات ہے جو مریضوں کا معائنہ کر کے انہیں مفت دوائیں فراہم کر رہے ہیں۔
رینجرز حکام کے مطابق اب تک 34 افراد نے کیمپ سے براہ راست فائدہ اٹھایا ہے جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور ضعیف افراد شامل ہیں۔ کیمپ میں جلدی بیماریوں، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور بخار جیسی شکایات کی تشخیص اور علاج کیا جا رہا ہے۔
اداروں کے درمیان مربوط رابطہ
پاکستان رینجرز (پنجاب) کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دیگر متعلقہ اداروں — جیسے کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، محکمہ صحت، اور مقامی حکومت — سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ امدادی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
ایک رینجرز اہلکار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“ہم سب مل کر اس مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ صرف ایک ادارے کا کام نہیں، بلکہ اجتماعی قومی ذمہ داری ہے۔”
عوام کی جانب سے اظہارِ تشکر
سلیمانکی اور اطراف کے دیہاتی علاقوں کے متاثرین نے پاکستان رینجرز کی فوری امداد اور خدمات پر بھرپور اعتماد اور تشکر کا اظہار کیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر رینجرز بروقت نہ پہنچتے، تو جانی و مالی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
آگے کا لائحہ عمل
رینجرز ترجمان کے مطابق، ریسکیو اور ریلیف آپریشن آئندہ چند دنوں تک جاری رہے گا۔ متاثرہ علاقوں میں مزید میڈیکل کیمپ قائم کرنے، راشن کی تقسیم، اور عارضی پناہ گاہوں کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کسی ممکنہ صورتحال سے پیشگی نمٹا جا سکے۔



