
کیچ / کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) — بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان میں پیر کی صبح ایک المناک دہشت گرد حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ساؤتھ کے کیپٹن سمیت پانچ سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی تفصیل: کچے راستے میں بچھایا گیا موت کا جال
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پیر کی صبح کیچ کے ضلعی ہیڈکوارٹر تربت سے تقریباً 120 کلومیٹر دور دشت کھڈان کے علاقے میں پیش آیا، جب ایف سی ساؤتھ کی تین گاڑیاں معمول کے گشت پر ایک کچے راستے سے گزر رہی تھیں۔ اس دوران سڑک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم (IED) زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں قافلے کی ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
اس دھماکے میں فرنٹیئر کور بلوچستان ساؤتھ دشت سکاؤٹس کے 125 ونگ سے تعلق رکھنے والے کیپٹن وقار احمد کاکڑ اور چار دیگر اہلکار شہید ہو گئے۔ شہید کیپٹن وقار کا تعلق بلوچستان کے ضلع لورالائی سے تھا۔ وہ پاکستانی فوج کی 47 کیولری آرمڈ کور کے افسر اور 142 لانگ کورس کے گریجویٹ تھے۔
شہید اہلکاروں کی شناخت
دھماکے میں شہید ہونے والے دیگر اہلکاروں کی شناخت درج ذیل ہے:
نائک جنید (ایف سی ساؤتھ 142 سپیشل آپریشن ونگ)
نائک عصمت
لانس نائک خان محمد
سپاہی ظہور احمد
شہداء کی میتیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایف سی ہیڈ کوارٹر تربت منتقل کی گئیں، جہاں سے مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ انہیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا۔
دھماکے کی نوعیت: ہدف بنا کر کیا گیا حملہ
ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکہ ریمورٹ کنٹرول آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا، جس میں تقریباً 8 سے 10 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بم انتہائی مہارت سے نصب کیا گیا تھا اور بظاہر قافلے کے پہلے یا درمیان والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (CTD) نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی اور نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جو اس علاقے میں ماضی میں بھی اسی نوعیت کے حملوں میں ملوث رہی ہیں۔
سکیورٹی فورسز کا فوری ردِعمل
واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا مکمل محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ دشت، کیچ، اور ملحقہ علاقوں میں داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور عسکری قیادت کا ردِعمل
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر کہا:
"بلوچستان کا ایک اور بہادر بیٹا کیپٹن وقار کاکڑ اپنے لوگوں اور اپنے پیارے پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔ ان کی قربانی ہمیشہ جرات اور غیرت کا روشن باب رہے گی۔ بلوچستان اور پاکستان آپ کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔”
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے بھی شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف جنگ جاری رہے گی، اور ان کی بزدلانہ کارروائیاں سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
عوامی سطح پر ردِعمل، شہداء کو خراجِ تحسین
واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عوام کی جانب سے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز برقرار
بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کو ایک بار پھر شدت پسند عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سڑک کنارے نصب بم، ریموٹ کنٹرول دھماکے، اور چھوٹے ہتھیاروں سے حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
اختتامیہ:
کیپٹن وقار کاکڑ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت ملک کے دفاع میں دی گئی وہ قربانی ہے جو تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھی جائے گی۔ یہ حملہ جہاں ایک جانب ملک دشمن عناصر کی بزدلی کی عکاسی کرتا ہے، وہیں دوسری جانب پاکستان کے جوانوں کی بہادری، قربانی اور حب الوطنی کا ثبوت بھی ہے۔



