
کوالالمپور / واشنگٹن / بیجنگ:
امریکی اور چینی حکام اس ہفتے کے آخر میں ملائیشیا میں ایک اہم تجارتی مذاکرات کے لیے آمنے سامنے ہوں گے، جسے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک فیصلہ کن موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی آئندہ جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات سے قبل ہوں گے۔
امریکی وفد کی قیادت وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کریں گے، جب کہ چینی وفد کی سربراہی نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ کریں گے۔ دونوں فریقین ان مذاکرات کے ذریعے دو رہنماؤں کے درمیان اگلے ہفتے ہونے والی سربراہی ملاقات کے لیے بنیادی نکات اور ممکنہ سمجھوتوں کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔
نازک مرحلہ — تعلقات میں تناؤ اور تجارتی جنگ بندی
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں طاقتوں کے تعلقات گزشتہ چند ماہ کے نسبتاً پُرسکون وقفے کے بعد دوبارہ کشیدگی کے شکار ہو چکے ہیں۔
امریکہ اور چین نے مئی میں ایک تجارتی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جسے بعد ازاں 10 نومبر تک توسیع دی گئی۔ تاہم، حالیہ ہفتوں میں نایاب زمینوں (Rare Earths)، ٹیکنالوجی برآمدات اور ٹیرف پالیسیوں پر اختلافات نے ایک بار پھر ماحول کو گرم کر دیا ہے۔
چین نے حال ہی میں نایاب زمینوں پر برآمدی پابندیوں میں اضافہ کیا — یہ وہ معدنیات ہیں جو عالمی سطح پر الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز، گاڑیوں اور دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے ناگزیر ہیں۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی برآمدی پابندیوں کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔
اس کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ "تمام اہم سافٹ ویئر” پر چینی مصنوعات کے خلاف 100 فیصد اضافی محصولات (Tariffs) عائد کریں گے اور یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو وہ شی جن پنگ سے ملاقات منسوخ کر سکتے ہیں۔
امریکہ کا مؤقف — “سب کچھ میز پر ہے”
ملائیشیا روانگی سے قبل ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ وہ مذاکرات کے نتائج کے بارے میں “پُرامید” ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر چین اپنی پابندیوں میں نرمی نہیں کرتا تو مزید اقدامات خارج از امکان نہیں۔
ان کا کہنا تھا:
“ہم امید کرتے ہیں کہ اس ہفتے کے آخر میں ہم معاملات کو اس حد تک آگے بڑھا لیں کہ رہنماؤں کے درمیان گفتگو ایک مثبت نوٹ پر شروع ہو۔ لیکن اگر چین پیچھے نہیں ہٹتا تو امریکہ کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں۔”
ایک سوال کے جواب میں بیسنٹ نے کہا:
“چاہے یہ سافٹ ویئر ہو، انجن ہوں یا دیگر اشیاء — اگر برآمدی کنٹرول بڑھانا پڑے تو ہم یہ اپنے G7 اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگی میں کریں گے۔”
چین کا ردِعمل — “ڈی جوپلنگ کی مخالفت اور باہمی احترام کی ضرورت”
چینی وزارتِ تجارت نے تصدیق کی کہ مذاکرات کے دوران دونوں فریقین “اہم امور” پر تبادلہ خیال کریں گے، جو کہ ٹرمپ اور شی کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں طے پانے والے “اہم اتفاقِ رائے” پر مبنی ہوں گے۔
جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں چین کے وزیر تجارت وانگ وین ٹاؤ نے کہا:
“چین ہمیشہ بات چیت اور تعاون کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ہمیں ایک ساتھ رہنے کے درست طریقے کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ ہم ڈی جوپلنگ (معاشی علیحدگی) کے سخت مخالف ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے چار دوروں کی بات چیت نے یہ ثابت کیا ہے کہ "باہمی احترام اور مساوی بنیاد پر مشاورت” ہی وہ راستہ ہے جس سے دونوں فریق اپنے تحفظات دور کر سکتے ہیں۔
پس منظر — تجارتی کشمکش کی جڑیں
گزشتہ ایک سال میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات بارہا تناؤ کا شکار ہوئے۔
اپریل میں ٹیرف جنگ اپنے عروج پر پہنچی جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اربوں ڈالر مالیت کے سامان پر تین ہندسوں تک محصولات عائد کر دیے۔
چین نے جواباً نایاب زمینوں کی برآمد کے لیے لائسنسنگ نظام نافذ کیا، جس سے گاڑیوں اور سیمی کنڈکٹرز کی عالمی پیداوار متاثر ہوئی۔
مئی میں جنیوا مذاکرات کے دوران بیسنٹ اور گریر کی قیادت میں 90 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، جس سے محصولات میں وقتی کمی آئی۔ اس کے بعد میڈرڈ، لندن اور اسٹاک ہوم میں متعدد ملاقاتیں ہوئیں، لیکن کوئی مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔
اگلے مراحل — ٹرمپ-شی ملاقات کا امتحان
تمام نظریں اب اگلے جمعرات کو جنوبی کوریا میں طے شدہ ٹرمپ-شی ملاقات پر مرکوز ہیں، جسے عالمی تجزیہ کار “امریکہ-چین تعلقات کے مستقبل کا سنگ میل” قرار دے رہے ہیں۔
یہ ملاقات صرف تجارتی تنازعے ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، سلامتی، تائیوان، یوکرین جنگ اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے حساس امور پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر دونوں رہنما مثبت سمت میں پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوئے تو یہ عالمی معیشت کے لیے ایک اہم ریلیف سگنل ثابت ہوگا۔ بصورت دیگر، “ٹیکنالوجی کولڈ وار” کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
نتیجہ — نیا موقع یا نئی محاذ آرائی؟
ملائیشیا میں ہونے والے یہ مذاکرات واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اعتماد سازی کا نیا امتحان ہیں۔
اگر فریقین مشترکہ مفادات پر اتفاق کر پاتے ہیں تو یہ عالمی منڈیوں میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
تاہم، اگر مذاکرات بے نتیجہ رہے تو ماہرین کو خدشہ ہے کہ نایاب زمینوں کی فراہمی میں خلل، ٹیک انڈسٹری میں رکاوٹ اور عالمی افراطِ زر مزید بڑھ سکتی ہے۔
جیسا کہ ایک امریکی تجزیہ کار نے کہا:
“یہ صرف امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ نہیں — یہ اس بات کا تعین کرے گی کہ اگلی دہائی میں عالمی معیشت کی سمت کیا ہوگی۔”



