
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز آئی ایس پی آر کے ساتھ
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے انسدادِ دہشت گردی کی دو علیحدہ کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے 20 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں 8 اور 9 نومبر کی درمیانی شب شمالی وزیرستان کے علاقے شوال اور درہ آدم خیل میں کی گئیں، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
شمالی وزیرستان میں آپریشن: 8 دہشت گرد جہنم واصل
آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق، شمالی وزیرستان کے دور دراز علاقے شوال میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے بروقت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کیا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھارت کی پشت پناہی رکھنے والے 8 دہشت گرد مارے گئے۔
ذرائع کے مطابق، ہلاک شدگان میں متعدد خطرناک کمانڈر بھی شامل ہیں جو حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ملوث تھے۔ علاقے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے۔
درہ آدم خیل میں شدید مقابلہ، 12 مزید دہشت گرد ہلاک
فوجی ترجمان نے مزید بتایا کہ درہ آدم خیل میں بھی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک اور آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز اور فتنۃ الخوارج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں مزید 12 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے فورسز پر فائرنگ کے ساتھ ساتھ فرار کی کوشش بھی کی، تاہم جوانوں نے مؤثر حکمتِ عملی سے علاقے کا مکمل محاصرہ کیا اور تمام دہشت گردوں کو بے اثر کر دیا۔
علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری
آئی ایس پی آر کے مطابق، دونوں کارروائیوں کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی دہشت گرد عنصر کو دوبارہ قدم جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
’عزمِ استحکام‘ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم
ترجمان پاک فوج نے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان (NAP) کے تحت فیڈرل ایپکس کمیٹی کی منظوری سے جاری وژن ’عزمِ استحکام‘ پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں اس وژن کے تسلسل کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے، خصوصاً ان گروہوں کو جو غیر ملکی سرپرستی میں پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھارتی سرپرستی اور دہشت گرد نیٹ ورک کا خاتمہ
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ مارے جانے والے دہشت گرد بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی حمایت سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مالی معاونت اور ہتھیار بیرونی ذرائع سے فراہم کیے جا رہے تھے۔ ترجمان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز ایسے تمام نیٹ ورکس کا سراغ لگا کر انہیں ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
عوام کا تعاون — کامیابی کی کلید
فوجی ترجمان نے قوم سے اپیل کی کہ وہ امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کا اعتماد، حمایت اور معلومات فراہم کرنا سب سے اہم ہتھیار ہے۔
ان کے مطابق، "پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنے وطن کے امن و استحکام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔ دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اسے ناکام بنانا ہمارا قومی فریضہ ہے۔”
پس منظر: نیشنل ایکشن پلان اور جاری مہمات
یاد رہے کہ پاکستان میں 2014 کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وژن "عزمِ استحکام” انہی مہمات کا تسلسل ہے جس کا مقصد دہشت گردی کے بقیہ نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی معاونین کا صفایا کرنا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، حالیہ کارروائیاں قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہیں۔ یہ آپریشنز نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کر رہے ہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔



