
جنوبی وزیرستان کے وانا میں کیڈٹ کالج پر دہشت گردوں کا حملہ، سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، دو حملہ آور ہلاک، تین محصور
فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ اپنی مایوسی میں، حملہ آوروں نے بارود سے بھری ایک گاڑی کالج کے مین گیٹ سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں گیٹ منہدم ہوگیا اور ملحقہ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
سید عاطف ندیم-پاکستان وائس آف جرمنی اردو نیوز،آئی ایس پی آر کے ساتھ
10 نومبر 2025 کو جنوبی وزیرستان کے ضلع وانا میں ایک گھناؤنی اور بزدلانہ دہشت گردی کی کارروائی کے دوران بھارتی پراکسی گروہ “فتنہ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے اور دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ تین حملہ آوروں کو کالج کے احاطے میں محصور کر لیا گیا۔
حملہ آوروں کی کارروائی اور فورسز کا جوابی ردِعمل
ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں نے علی الصبح کیڈٹ کالج کے حفاظتی حصار کو توڑنے کی کوشش کی۔ چوکس سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ اپنی مایوسی میں، حملہ آوروں نے بارود سے بھری ایک گاڑی کالج کے مین گیٹ سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں گیٹ منہدم ہوگیا اور ملحقہ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
فورسز کے بروقت ردعمل کے باعث دہشت گرد کالج کے مرکزی ڈھانچے میں داخل ہونے میں ناکام رہے۔ تاہم، فائرنگ کے دوران تین حملہ آور انتظامی بلاک کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جنہیں فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔ علاقے میں آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی اداروں نے کالج کے اطراف کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔
"فتنہ الخوارج” کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا
سیکیورٹی حکام کے مطابق، حملہ آوروں کا تعلق بھارتی انٹیلیجنس کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم “فتنہ الخوارج” سے تھا۔ اس تنظیم نے 2014 میں آرمی پبلک اسکول (APS) پشاور پر حملے کی طرز پر ایک اور المناک سانحہ دہرانے کی کوشش کی، جس کا مقصد سابقہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق،
“یہ عناصر ان نوجوانوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں جو علم کے ذریعے اپنے مستقبل کو سنوار رہے ہیں اور جو امن و استحکام کی علامت ہیں۔”
دہشت گردوں کے افغان سرزمین سے روابط
حکام کے مطابق، محصور دہشت گرد افغانستان میں اپنے آقاؤں اور ہینڈلرز سے رابطے میں ہیں اور حملے کے دوران انہیں ہدایات فراہم کی جا رہی تھیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ حملہ افغانستان سے ہی منصوبہ بند اور ترتیب دیا گیا تھا۔
اس حوالے سے سرکاری سطح پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ،
“یہ واقعہ افغان طالبان حکومت کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں وہ اپنی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی عدم موجودگی کا یقین دلاتے ہیں۔ پاکستان، افغانستان میں موجود ان دہشت گرد عناصر اور ان کی قیادت کے خلاف مناسب اور مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔”
کلیئرنس آپریشن جاری
علاقے میں جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران دو دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ تین دہشت گردوں کو زندہ پکڑنے یا ہلاک کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔ اسپیشل سروسز گروپ (SSG) اور فرنٹیئر کور کے دستے موقع پر موجود ہیں اور کیڈٹ کالج کے اندرونی حصے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، حملے کے بعد علاقے میں زبردست فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمی اہلکاروں کو ڈی آئی خان کے ملٹری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
"اعظمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ویژن “اعظمِ استحکام” کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
ترجمان کے مطابق،
“پاکستان غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کے خلاف اپنی مہم کو پوری رفتار سے جاری رکھے گا۔ کوئی بھی طاقت ہمیں امن، ترقی اور تعلیم کے سفر سے نہیں روک سکتی۔”
دہشت گردی کے خلاف عوامی اتحاد
ملک کے مختلف طبقات کی جانب سے وانا حملے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ سیاسی رہنماؤں، علما اور سول سوسائٹی نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اور افواج متحد ہیں اور دہشت گردوں کے ایجنڈے کو ناکام بنائیں گے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ،
“ہماری فورسز نے ایک بڑے سانحے کو ٹال کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔”
پسِ منظر: خوارج اور بھارتی پراکسی نیٹ ورک
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، “فتنہ الخوارج” نامی گروہ دراصل بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کی مالی و عسکری معاونت سے فعال ہے۔ اس کا بنیادی ہدف قبائلی علاقوں میں تعلیمی اداروں، سیکیورٹی فورسز اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا ہے تاکہ وہاں امن کے عمل کو سبوتاژ کیا جا سکے۔
عسکری ذرائع کے مطابق، 2024 کے آخر سے اس گروہ کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر افغان سرحد کے قریب علاقوں میں۔
نتیجہ
جنوبی وزیرستان کے وانا میں کیڈٹ کالج پر یہ حملہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں بیرونی حمایت سے جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم، پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے اپنے عزم، تربیت اور قربانیوں کے ذریعے دشمن کے ہر ناپاک منصوبے کو ناکام بنانے کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق،
“ہم امن، تعلیم اور ترقی کے دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہے، اور دہشت گردی کی اندھیری راہیں ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔”



