کاروبارتازہ ترین

پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیز کیا جائے، تمام مراحل شفاف ہوں: وزیراعظم شہباز شریف

نجکاری کمیشن اور متعلقہ ادارے شفافیت کو اولین ترجیح بنائیں تاکہ نہ صرف عوام کا اعتماد برقرار رہے بلکہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا کیا جا سکے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،پی اے اے کے ساتھ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے حوالے سے تمام مراحل کو تیز رفتاری اور شفاف طریقے سے مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ایئر لائن سمیت تمام سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ شفافیت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد یقینی بنایا جا سکے۔

یہ ہدایات وزیراعظم کی سربراہی میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران دی گئیں، جس میں پی آئی اے کی نجکاری اور مستقبل کے کاروباری منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


نجکاری کا پورا عمل براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم نے کہا کہ نجکاری قومی اثاثوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، اس لیے تمام مراحل کو ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے براہِ راست نشر کیا جائے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ نجکاری کمیشن اور متعلقہ ادارے شفافیت کو اولین ترجیح بنائیں تاکہ نہ صرف عوام کا اعتماد برقرار رہے بلکہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا کیا جا سکے۔


اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ: 3 جون 2025

اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی (EOI) جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 جون 2025 مقرر کی گئی ہے۔
حکومت 51 سے 100 فیصد تک حصص فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے ساتھ انتظامی کنٹرول کی منتقلی بھی شامل ہوگی۔

حکام کے مطابق نجکاری کمیشن نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی ہے، اور قابض کاروباری مشیروں کی مشاورت سے سرمایہ کاروں تک رسائی کے اقدامات پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں۔


روڈ شوز اور سرمایہ کار رابطہ مہم کو تیز کرنے کی ہدایت

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ مختلف ممالک میں روڈ شوز، انویسٹر بریفنگز اور مشاورت کے سیشنز منعقد کیے جائیں تاکہ پی آئی اے کی نجکاری میں زیادہ سے زیادہ تنوع اور وسیع شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ:

"ملکی معاشی استحکام کے لیے خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ناگزیر ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری ایک مؤثر اصلاحاتی قدم ہے جو قومی ایئر لائن کو مالی استحکام دے گا۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ نجکاری کے عمل میں کسی قسم کی سستی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور شیڈول کے مطابق تمام مراحل مکمل کیے جائیں۔


سابقہ غلطیاں نہ دہرانے کا عزم

اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ ماضی میں نجکاری کی پہلی کوشش کے دوران بولی دینے والوں کی تعداد کم رہی تھی، اور موجودہ عمل میں اس غلطی کو نہ دہرانے کے لیے پہلے ہی جامع تیاری کر لی گئی ہے۔

نجکاری کمیشن نے سرمایہ کاری بڑھانے اور بین الاقوامی فنانسنگ اداروں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مختلف تجاویز وزیراعظم کے سامنے رکھیں، جنہیں فوری طور پر نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔


نجکاری کے بعد پی آئی اے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا منصوبہ

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کا نام، برانڈ اور تھیم تبدیل نہیں کی جائے گی۔
مزید یہ کہ 2029 تک پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 38 کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔

اسی مدت میں پی آئی اے کی پروازوں کا دائرہ کار پھیلایا جائے گا، اور قومی ایئر لائن 30 سے بڑھا کر 40 سے زائد شہروں میں فضائی خدمات فراہم کرے گی۔

حکام کا کہنا تھا کہ 20 سال بعد پہلی مرتبہ پی آئی اے ممکنہ طور پر منافع کے قریب پہنچ چکی ہے، اور نجکاری کے بعد اس میں کامرانی، مالی استحکام اور جدید معیار کی سروس کی توقعات بڑھ جائیں گی۔


وزیراعظم کا معاشی اصلاحات پر زور

وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ قومی معیشت کو مضبوط کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو بہتر نظم و نسق کے ذریعے قومی ترقی کے لیے فعال بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ایک ٹرانسفارمیشن موڈ کی طرف قدم ہے، جس سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ پاکستان کی فضائی سروسز کا معیار بین الاقوامی سطح پر بھی مستحکم ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button