یورپتازہ ترین

جرمنی کی یورپ کی سب سے مضبوط فوج بنانے کی کوشش — نیا بھرتی بل ایک بڑے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے

"تشویش کی کوئی ضرورت نہیں۔ جتنا ہم دفاع میں مضبوط ہوں گے، اتنا ہی کم امکان ہے کہ ہم کسی جنگ کا حصہ بنیں۔"

جواد احمد-جرمنی،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

برلن — جرمنی، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک فوجی نظراندازی اور بجٹ کٹوتیوں کا شکار رہا، اب یورپ کی سب سے بڑی اور مضبوط عسکری قوت بننے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم بڑھا رہا ہے۔ چانسلر فریڈرک مرز کی قیادت میں حکومت نے ایک نیا فوجی بھرتی بل تیار کیا ہے جو جرمن دفاعی پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی سلامتی غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔ یوکرین میں روس کی جاری جنگ، امریکی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں اور نیٹو اتحادیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تشویش نے جرمنی پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ یورپی دفاع میں اپنا کردار مضبوط کرے۔


فوجی قوت میں زبردست اضافہ: 180,000 سے 260,000 فوجی

نئے منصوبے کے تحت، جرمنی کا ہدف ہے کہ موجودہ تقریباً 180,000 فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 260,000 تک لائی جائے۔ اس کے علاوہ 2035 تک 200,000 اضافی ریزروسٹ کی بھی تیاری کی جائے گی، جو یورپی دفاعی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں، حکومت رضاکارانہ بھرتی پر توجہ دے گی اور اس کے لیے پرکشش مراعات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ بھرتی ہونے والوں کے لیے ابتدائی ماہانہ تنخواہ €2,600 رکھی گئی ہے، جو موجودہ سطح سے €450 زیادہ ہے۔

لیکن اگر یہ رضاکارانہ کوٹہ پورا نہ ہوا تو حکومت کے پاس لازمی بھرتی (compulsory call-ups) کا اختیار بھی موجود ہو گا۔


18 سال کی عمر سے لازمی رجسٹریشن — 2027 سے میڈیکل ٹیسٹ بھی ضروری

نظام میں ایک بڑی تبدیلی یہ بھی ہے کہ اگلے سال سے تمام 18 سالہ نوجوانوں کو فوجی سروس میں دلچسپی سے متعلق ایک سوالنامہ موصول ہو گا۔

  • مردوں کے لیے جواب دینا لازمی ہو گا۔

  • 2027 سے 18 سالہ مردوں کے لیے میڈیکل معائنہ بھی لازم ہو جائے گا۔

یہ اقدام جرمنی کے سابقہ لازمی سروس سسٹم کی یاد دلاتا ہے جسے 2011 میں ختم کر دیا گیا تھا۔


جرمنی کیوں یہ قدم اٹھا رہا ہے؟ روس کا خطرہ، نیٹو کی وارننگ

جرمنی کی دفاعی پالیسی میں اس ڈرامائی تبدیلی کی بنیادی وجہ روس کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔

جرمنی کے چیف آف ڈیفنس جنرل کارسٹن بریور نے بی بی سی کو جون میں بتایا تھا کہ نیٹو ممالک کو 2029 تک ممکنہ روسی حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ یورپی ممالک کو دفاعی تیاریوں کی رفتار بڑھانا ہو گی۔

لندن کے تھنک ٹینک چتھم ہاؤس کی یورپ ماہر مینا ایلنڈر کے مطابق، اگر جرمنی اپنے اہداف پورے کر لیتا ہے،

"تو یہ یورپ کے لیے ایک گیم-چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر یہ عمل ممکنہ طور پر 2030 کی دہائی میں جا کر مکمل ہو گا۔”


پارٹیوں میں کھینچا تانی — "لاٹری بھرتی” کی تجویز مسترد

نئے بل کی تیاری سے قبل اتحادی جماعتوں CDU اور SPD میں شدید اختلافات پائے جاتے تھے۔
ایک تجویز یہ تھی کہ بھرتی کے لیے "لاٹری سسٹم” لایا جائے جس میں نوجوانوں کے نام نکال کر انہیں میڈیکل اسکریننگ اور پھر سروس کے لیے منتخب کیا جاتا۔

لیکن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھرتی کو مراعات اور بہتر حالاتِ ملازمت پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ جبری لاٹری پر۔


2026 سے نافذ ہونے کا امکان — پارلیمنٹ میں ووٹنگ باقی

نیا بھرتی بل ابھی جرمن پارلیمنٹ بنڈسٹاگ سے منظور ہونا باقی ہے۔ توقع ہے کہ قانون ساز سال کے آخر تک اس پر ووٹ دیں گے۔ اگر منظوری مل گئی تو یہ 1 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو جائے گا۔

وزیر دفاع پسٹوریئس نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا:

"تشویش کی کوئی ضرورت نہیں۔ جتنا ہم دفاع میں مضبوط ہوں گے، اتنا ہی کم امکان ہے کہ ہم کسی جنگ کا حصہ بنیں۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جرمنی کا نیا بھرتی ماڈل دیگر یورپی یونین کے ممالک کے لیے مثال بن سکتا ہے، خصوصاً فرانسیسی اور برطانوی ہم منصبوں کے ساتھ جاری بات چیت کا حوالہ دیا۔


تنقید اور عوامی رائے — سیاسی بائیں بازو کی شدید مخالفت

اگرچہ حکومت اسے قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قدم قرار دے رہی ہے، لیکن یہ اصلاحات متنازع ہیں۔ جرمنی کے بائیں بازو کے حلقوں میں کسی بھی طرح کی لازمی فوجی سروس کی واپسی کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔

ایک فورسا (Forsa) سروے کے مطابق، اصلاحات کے اعلان سے پہلے:

  • بائیں بازو کے 80٪ ووٹرز کسی بھی لازمی سروس کے خلاف تھے۔

  • نوجوانوں میں بھی اس کے بارے میں مخلوط آراء پائی جاتی ہیں۔

کئی ناقدین کا مؤقف ہے کہ جبری خدمت نوجوانوں کی تعلیم، کیریئر اور آزادی پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور جرمنی کو رضاکارانہ پیشہ ور فوج پر ہی توجہ دینی چاہیے۔


یورپی سکیورٹی کا نیا نقشہ؟

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے اور جرمنی اپنے عسکری اہداف حاصل کر لیتا ہے تو وہ نہ صرف یورپ کی سب سے بڑی فوج بن جائے گا بلکہ نیٹو کا سب سے مضبوط روایتی دفاعی ستون بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام یورپی سلامتی کے توازن کو ازسرنو متعین کر دے گا — خاص طور پر امریکا کی ممکنہ پیچھے ہٹتی ہوئی عالمی پالیسیوں کے تناظر میں۔

جرمنی کی دفاعی واپسی محض عسکری نہیں بلکہ سیاسی، اسٹریٹجک اور تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو دوسری جنگ عظیم کے بعد عسکری طاقت بڑھانے سے ہچکچاتا رہا، اب یورپی براعظم کی قیادت کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button