
ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان: اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی تیاری — امریکہ اور عالمی سیاسی منظرنامے میں نئی ہلچل
امریکی داخلی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور عالمی اسلامی تحریکوں پر بھی اس کے وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
واشنگٹن — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا باضابطہ اعلان جلد کریں گے۔ اتوار کے روز Just the News کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے اس فیصلے کو "سب سے مضبوط اور طاقتور شرائط” میں نافذ کرنے کی بات کی اور کہا کہ "حتمی دستاویزات تیار کی جا رہی ہیں۔”
یہ بیان نہ صرف امریکی داخلی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور عالمی اسلامی تحریکوں پر بھی اس کے وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اخوان المسلمون: ایک عالمی اسلامی تحریک جس پر پہلے ہی کئی ممالک پابندی لگا چکے ہیں
اخوان المسلمون کی بنیاد 1920 کی دہائی میں مصر میں رکھی گئی اور آج اسے دنیا کی سب سے بڑا اسلامی سوشیو-پولیٹیکل تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے نظریاتی اور سیاسی اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ، ترکی، ایشیا اور امریکہ میں بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
کئی ممالک — خصوصاً
متحدہ عرب امارات
سعودی عرب
مصر
بحرین
روس
— پہلے ہی اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
تاہم بہت سے یورپی ممالک، ترکی اور امریکہ میں کئی تجزیہ کار اس تنظیم کو ایک سیاسی و سماجی تحریک قرار دیتے ہیں، جس کا دہشت گرد سرگرمیوں سے تعلق مبہم اور مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کا ہے۔
امریکہ میں نیا دباؤ: ٹیکساس کا اقدام اور قدامت پسند حلقوں کی سرگرم مہم
ٹرمپ کے بیان سے صرف چند دن قبل امریکی ریاست ٹیکساس نے اخوان المسلمون کے ساتھ ساتھ Council on American-Islamic Relations — CAIR کو بھی "غیر ملکی دہشت گرد اور بین الاقوامی مجرمانہ تنظیم” قرار دیا۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا:
"یہ نامزدگی دونوں گروہوں کو ٹیکساس میں زمین خریدنے یا ملکیت حاصل کرنے سے روکتی ہے اور ریاستی اٹارنی جنرل کو انہیں بند کرنے کے لیے قانونی کارروائی کا اختیار دیتی ہے۔”
تاہم یہ پابندی صرف ریاستی سطح پر قابلِ عمل ہے۔
وفاقی سطح پر نامزدگی کی اصل قانونی طاقت — جیسے:
اثاثوں کا منجمد ہونا
امریکہ میں داخلے پر پابندی
مجرمانہ کارروائی
— صرف امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جاری کر سکتے ہیں۔
یہ اعلان امریکی قدامت پسند حلقوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں کئی سیاست دان اور مبصرین اخوان کو مکمل طور پر پابندی کے دائرے میں لانے کے حق میں ہیں۔
سیاسی اقدامات
جولائی میں سینیٹر ٹیڈ کروز نے اخوان کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے ایک مسودہ قانون پیش کیا۔
ایوانِ نمائندگان میں بھی اس حوالے سے پہلے متعدد کوششیں ہو چکی ہیں۔
انتہائی دائیں بازو کی مبصر لورا لومر — جنہیں ٹرمپ کا غیر رسمی مشیر سمجھا جاتا ہے — مسلسل اخوان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی رہی ہیں۔
ٹرمپ کی یوکرین پر تنقید: "صفر شکرگزاری”
اس انٹرویو میں ٹرمپ نے یوکرین پر بھی نکتہ چینی کی، یہ کہتے ہوئے کہ
"امن مذاکرات میں یوکرین نے صفر شکرگزاری دکھائی۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی قیادت نے امریکی سفارتی اور فوجی مدد کے مقابلے میں "کسی قسم کی شکرگزاری یا تعاون نہیں دکھایا۔”
یہ بیان ان حالات میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں یوکرین کو دی جانے والی امداد سیاسی تقسیم کا شکار بنی ہوئی ہے۔
یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ ردعمل
مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک
سعودی عرب، مصر اور یو اے ای پہلے ہی اخوان کے سخت مخالف ہیں اور ٹرمپ کے بیان کو اپنی پالیسی کے حق میں دیکھ سکتے ہیں۔
یہ ممالک اخوان کو "ریاست مخالف سیاسی تحریک” اور "انتہا پسند نیٹ ورک” قرار دیتے ہیں۔
ترکی اور قطر
ترکی اور قطر — جو اخوان کے سیاسی دھڑوں کے حامی رہے ہیں — امریکہ کے اس اقدام کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں، کیونکہ اس سے خطے میں ان کی سفارتی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
یورپ
فرانس نے جولائی میں اخوان سے منسلک تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں:
اثاثوں کا منجمد ہونا
انڈومنٹ فنڈز کا خاتمہ
– شامل ہیں۔
تاہم فرانس اور جرمنی امریکی درجے بندی کو بہت سخت اور خطرناک مثال کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، خاص طور پر یورپ میں مسلم برادری کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں۔
اردن
اکتوبر میں اردن نے اخوان سے منسلک متعدد افراد کو "قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں” پر سزا سنائی، جسے کئی مبصرین نے خطے میں تنظیم کی کمزور ہوتی ہوئی سیاسی طاقت کی علامت قرار دیا۔
امریکی سیاست پر اثرات: نیا تنازعہ سامنے
اخوان المسلمون کی ممکنہ نامزدگی امریکی سیاست میں:
مسلم تنظیموں کی نگرانی اور پابندیوں
امریکی مسلم برادری کے ساتھ سرکاری تعلقات
غیر ملکی لابنگ قوانین
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ
— جیسے معاملات پر بڑے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اخوان کو مکمل طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے تو اس فیصلے کو امریکی عدالتوں میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اخوان کے کئی اجزا مذہبی و سماجی خدمات انجام دیتے ہیں اور ان کا براہِ راست دہشت گرد کارروائیوں سے تعلق ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
نتیجہ: ایک ایسا اعلان جس کے عالمی سیاسی اثرات بہت وسیع ہوں گے
ڈونلڈ ٹرمپ کا اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کا اعلان ایک ایسا قدم ہے جس کے اثرات:
امریکہ کی داخلی سیاست
مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات
مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سیاست
یورپی سلامتی حکمتِ عملی
اور عالمی اسلامی تحریکوں
— سب پر پڑیں گے۔
یہ واضح ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف امریکہ کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے، بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نئی سفارتی توازن آرائی شروع ہو سکتی ہے۔



