
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 25 سال بعد پتنگ بازی کی بہار لوٹ آئی: گورنر پنجاب سلیم حیدر کا آرڈیننس جاری
18 سال سے کم عمر افراد کو پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ، بچوں یا نوجوانوں کے والدین یا سرپرستوں کو ان کی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا
ڈاکٹر اصغر واہلہ.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پنجاب میں 25 سال بعد ایک بار پھر پتنگ بازی کی واپسی کا امکان روشن ہو گیا ہے۔ گورنر پنجاب سلیم حیدر نے پتنگ بازی کی مشروط اجازت دینے والا ایک آرڈیننس جاری کر دیا ہے، جس کے تحت بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے حوالے سے مخصوص شرائط اور حفاظتی تدابیر رکھی گئی ہیں۔ اس آرڈیننس کے مطابق، بسنت کے دوران پتنگ بازی کے لیے بعض قوانین و ضوابط کو سختی سے نافذ کیا جائے گا اور ان کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی رکھی گئی ہیں۔
پتنگ بازی پر 2001 میں عائد کی جانے والی پابندی کا خاتمہ
پنجاب میں 2001 میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کی گئی تھی، جس کے بعد پتنگ بازی کے شوقین افراد اس روایتی کھیل سے دور ہو گئے تھے۔ تاہم، حکومت نے 25 سال بعد اس پابندی کو ختم کرتے ہوئے بسنت کو دوبارہ منانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد پر گورنر پنجاب سلیم حیدر نے آرڈیننس جاری کیا، جس کے مطابق پتنگ بازی کے دوران حفاظتی اقدامات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
پتنگ بازی کے لیے مخصوص شرائط اور پابندیاں
آرڈیننس کے مطابق، پتنگ بازی صرف مخصوص شرائط کے تحت کی جا سکے گی۔ ان شرائط میں سب سے اہم یہ ہے کہ 18 سال سے کم عمر افراد کو پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ، بچوں یا نوجوانوں کے والدین یا سرپرستوں کو ان کی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اگر کوئی نوجوان ان شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اس کے والدین یا سرپرست پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
پتنگ بازی کے لیے صرف دھاگے سے بنی سادہ ڈور کا استعمال کرنے کی اجازت ہو گی، جبکہ دھاتی یا تیز دھار مانجے کے استعمال پر سخت سزائیں رکھی گئی ہیں۔ اس میں کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی قید اور 20 لاکھ روپے تک کا جرمانہ شامل ہے۔
پتنگ بازی کی محفوظ واپسی کے لیے حفاظتی تدابیر
پتنگ بازی کے دوران حفاظتی تدابیر کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو خاص ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے مخصوص حفاظتی اصول وضع کیے جائیں گے اور ان اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، پتنگ بازی کے دوران مشکوک مقامات یا گھروں کی تلاشی لینے کا اختیار بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیا گیا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی فرد ممنوعہ مواد یا خطرناک دھاگے کا استعمال نہ کرے۔
18 سال سے کم عمر افراد کی خلاف ورزی پر جرمانے کی سزائیں
آرڈیننس میں 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے بھی خاص شرائط رکھی گئی ہیں۔ پہلی خلاف ورزی پر ان پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا، اور دوسری خلاف ورزی پر جرمانہ بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دیا جائے گا۔ اگر والدین یا سرپرست اپنے بچوں کی خلاف ورزی کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پتنگ بازی ایسوسی ایشنز کے لیے بھی رجسٹریشن ضروری
پتنگ بازی کے شوقین افراد کے لیے ایسوسی ایشنز کا قیام بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ان ایسوسی ایشنز کو اپنے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں رجسٹرڈ کرانا ہو گا۔ اس کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ پتنگ بازی کی سرگرمیاں منظم اور محفوظ طریقے سے کی جا رہی ہیں۔
پتنگ بازی کی واپسی کے لیے انتظامیہ کی مشاورت
پتنگ بازی پر پابندی کا آغاز اس وقت ہوا جب اس کھیل کی وجہ سے موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کٹنے، بجلی کے تاروں میں شارٹ سرکٹ اور چھتوں سے گر کر ہونے والی ہلاکتوں جیسے واقعات نے ایک سنگین صورت حال پیدا کر دی تھی۔ تاہم، حکومت نے سنہ 2024 اور 2025 میں اس معاملے کو دوبارہ زیرِ غور لایا اور ضلعی انتظامیہ سے حادثات، حفاظتی لائحہ عمل اور بسنت کی مرحلہ وار واپسی کے حوالے سے تجاویز طلب کیں۔
یہ مشاورتیں مختلف میڈیا چینلز پر بار بار سامنے آئیں، جس کے بعد گورنر پنجاب کا یہ آرڈیننس بھی جاری کیا گیا، جس سے پتنگ بازی کی محفوظ واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
آرڈیننس کا مقصد اور نتائج
اس آرڈیننس کا مقصد پنجاب میں بسنت کے تہوار کو دوبارہ منانے کے دوران عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کی واپسی سے نہ صرف روایتی تہوار کا دوبارہ آغاز ہو گا بلکہ یہ سرگرمی نوجوانوں کے لیے تفریح کا ایک محفوظ ذریعہ بھی ثابت ہو گی۔ تاہم، اس کے لیے عوامی تعاون اور حفاظتی تدابیر کی پیروی کرنا ضروری ہو گا، تاکہ اس کھیل سے متعلق کسی بھی قسم کے حادثات یا نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ قدم پنجاب میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے جہاں پتنگ بازی کو ایک محفوظ اور ذمہ دار سرگرمی کے طور پر دوبارہ زندگی دی جائے گی۔



