
’وہ ہماری زندگی کی روشنی تھی، بیٹی کی شکل میں میرا بیٹا، میرا سب کچھ، میرا مان‘ گاڑی کی ٹکر سے مرنے والی 26 سال کی تابندہ کے والد غلام مہدی
غلام مہدی نے مزید کہا کہ ’’میری اہلیہ، بیٹی کی ناگہانی موت کے بعد ایک لفظ بھی نہیں بول رہی ہیں، اور میں خود کو بھی حوصلہ دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔‘‘
ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
اسلام آباد میں پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں 26 سالہ تابندہ بتول اور 27 سالہ ثمرین حسین کی جان چلی گئی۔ یہ حادثہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے کم عمر بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے پیش آیا، جس کے نتیجے میں دونوں لڑکیاں شدید زخمی ہو گئیں اور اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئیں۔
غلام مہدی کا دل گرفتہ بیان
تابندہ بتول کے والد غلام مہدی نے وائس آف جرمنی اردو نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ہماری زندگی کی روشنی تھی، بیٹی کی شکل میں میرا بیٹا، میرا سب کچھ، میرا مان۔ اس کی موجودگی ہمارے لیے بڑا سہارا تھی، مگر آج یقین نہیں آرہا کہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہی۔‘‘
غلام مہدی نے مزید کہا کہ ’’میری اہلیہ، بیٹی کی ناگہانی موت کے بعد ایک لفظ بھی نہیں بول رہی ہیں، اور میں خود کو بھی حوصلہ دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔‘‘
حادثہ کی تفصیلات
غلام مہدی نے بتایا کہ پیر کی رات تین بجے انہیں فون کال موصول ہوئی کہ ان کی بیٹی کا حادثہ ہو گیا ہے اور وہ پمز ہسپتال میں ہیں۔ ’’اس خبر کے بعد سے مجھے اب تک صحیح نیند نہیں آئی،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’ہم فوراً ہسپتال پہنچے لیکن جب تک ہم پہنچے میری بیٹی اور اس کی سہیلی دونوں دم توڑ چکی تھیں۔‘‘
تابندہ بتول نے تین ماہ قبل اپنی سکوٹی خریدی تھی تاکہ وہ بااختیار خاتون بن سکیں۔ وہ اپنے دفتر کی ساتھی ثمرین حسین کے ساتھ سکوٹی پر آتی جاتی تھیں، اور یہ سفر ان کے لیے نسبتاً محفوظ اور آسان تھا، مگر ان کا بااختیار بننے کا یہ سفر صرف تین ماہ ہی چل سکا۔
پیشہ ورانہ زندگی
تابندہ بتول پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ ایونٹ مینجمنٹ کا کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے پنجاب گروپ آف کالجز سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی، مگر اس کے بعد مالی مسائل کی وجہ سے تعلیم کو جاری نہ رکھ سکیں اور اپنے والد کا سہارا بننے کے لیے ملازمت شروع کر دی۔ غلام مہدی کا کہنا تھا کہ ’’میری بیٹی میرا دایاں بازو تھی، اور اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر ہمارا گزر بسر آسان کر دیا تھا۔‘‘
ثمرین حسین کا پس منظر
دوسری طرف، 27 سالہ ثمرین حسین بھی پی این سی اے میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ ایونٹ مینجمنٹ کے شعبے میں کام کر رہی تھیں۔ وہ انٹیریئر ڈیزائننگ کا کورس کرنے کے بعد چند ماہ قبل ملازمت کرنے لگیں۔ ان کے بھائی عدنان تجمل نے بتایا کہ ’’ثمرین نے ضد کر کے ملازمت کرنے کی اجازت حاصل کی تھی، لیکن انہیں چھٹیوں پر جانا تھا تاکہ وہ اپنی نیند پوری کر سکیں، مگر بدقسمتی سے وہ حادثے کا شکار ہو گئیں۔‘‘
پولیس کی تحقیقات اور شکوک
حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے عدنان تجمل نے پولیس کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایف آئی آر میں ہمارے مطالبے کے باوجود ملزم اور اس کے والد کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے نشانات بھی ختم کر دیے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج تاحال فراہم نہیں کی گئی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’پولیس ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد کیس کا جائزہ لے گی۔‘‘
پولیس کی کارروائی
دوسری جانب، اسلام آباد پولیس نے دفعہ 322 پی پی سی (قتل بالسبب)، دفعہ 279 پی پی سی (بے پروائی سے گاڑی چلانا)، اور دفعہ 427 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے اور ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کو قانونی تقاضوں کے مطابق دیکھا جا رہا ہے اور تحقیقات کے دوران ضروری کارروائی کی جائے گی۔
فیملی کی حالت اور انصاف کی امید
غلام مہدی اور عدنان تجمل دونوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی بیٹیوں کو انصاف ملے گا۔ غلام مہدی نے کہا، ’’میرے دل میں اس حادثے کا دکھ ہے، مگر مجھے امید ہے کہ انصاف ملے گا، اور میری بیٹی کی موت کا سبب بننے والے کو سزا ملے گی۔‘‘
نتیجہ
یہ حادثہ نہ صرف دو نوجوان لڑکیوں کی زندگیوں کا خاتمہ تھا، بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے ایک بڑا سانحہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس حادثے کے بعد پولیس کی جانب سے تحقیقات کا عمل جاری ہے، اور متاثرہ خاندان انصاف کے حصول کے لیے امیدوں کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ سانحہ ایک بار پھر سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور سڑکوں کی حفاظت کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے، جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے حادثات کو روکا جا سکے۔



