
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان نے اتوار کے روز بھارتی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے پاکستان کی مسلح افواج سے متعلق ’انتہائی اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ‘ بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن اور حقائق سے دور قرار دیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی قیادت کا یہ طرز عمل پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
یہ ردعمل بھارتی وزیرِ خارجہ کے اُس بیان کے ایک روز بعد آیا، جس میں ڈاکٹر ایس جے شنکر نے الزام عائد کیا تھا کہ بھارت کو اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ بنیادی چیلنجز براہِ راست پاکستان کی عسکری قیادت سے درپیش ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج کے اقدامات بھارت کے لیے مسلسل چیلنج کا باعث بن رہے ہیں اور اس کا اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر پڑ رہا ہے۔
پاکستان کی واضح پوزیشن
دفتر خارجہ کی جانب سے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس کے تمام قومی ادارے، بشمول مسلح افواج، پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج ملکی دفاع کے لیے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں بھرپور عزم و ہمت کے ساتھ مصروف ہیں، اور کسی بھی قسم کی بیرونی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کے وزیرِ خارجہ کے بیان میں جو الزام عائد کیا گیا وہ حقیقت سے بہت دور ہے اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مادرِ وطن کے دفاع کے عزم کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ بیان میں مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی 4 روزہ جھڑپ کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں پاکستانی مسلح افواج نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور وطن کی حفاظت کے عزم کو بخوبی ثابت کیا تھا۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف
دفتر خارجہ نے کہا کہ 2023 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر جھڑپ نے واضح طور پر ثابت کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں جو اپنے ملک کی خودمختاری کا تحفظ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اس نے دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے، اور پاکستانی افواج کسی بھی بیرونی خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کی پروپیگنڈا مہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو اپنے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کر رہا ہے۔
بھارتی قیادت کے پروپیگنڈا کو مسترد کرنا
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ریاستی اداروں اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے کی کوششوں کو ایک ’پروپیگنڈا مہم‘ کا حصہ قرار دیا، جس کا مقصد بھارت کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی قیادت پاکستان کے خلاف اپنی اس پروپیگنڈا مہم کو بڑھا کر خطے اور دنیا کی توجہ پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور بھارت کی جانب سے کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم سے ہٹانا چاہتی ہے۔
پاکستان نے بھارتی قیادت پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اور اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کرے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس طرح کی بیان بازی سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوں گے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔
بھارتی قیادت کا طرزِ عمل خطے میں عدم استحکام کا باعث
پاکستان نے بھارتی قیادت کے طرزِ عمل کو خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اشتعال انگیز بیان بازی خطے میں امن و ہم آہنگی کے لیے اس کی بے اعتنائی کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ اپنی تعلقات میں اشتعال انگیزی کی پالیسی ترک کرنی چاہیے اور اس کے بجائے بھارت کو خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سازگار ماحول بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا مطالبہ
پاکستان نے بھارتی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیانات میں اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے خطے کے امن کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ پاکستان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کی اشتعال انگیز بیانات نہ صرف عالمی سطح پر تعلقات کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے بھی خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔ دفتر خارجہ نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے بیانات کو ایک سیاسی حربہ قرار دیا جو حقیقت سے ہٹ کر تھا۔
پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان یا پروپیگنڈا پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان کی مسلح افواج کے عزم کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور ریاست اپنے عوام کے دفاع کے لیے ہمیشہ تیار ہیں اور اس عزم میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی۔
نتیجہ
دفتر خارجہ کی جانب سے اس ردعمل کا مقصد نہ صرف بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات کا جواب دینا تھا بلکہ یہ بھی ظاہر کرنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع میں کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے قیام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے، نہ کہ اشتعال انگیزی اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ۔





