
پی ٹی آئی کے ”کی بورڈ واریرز” ڈھائی سال سے پاکستان آرمی اور اس کے سربراہ کے خلاف منظم مہم چلا رہے ہیں: عظمٰی بخاری
بانی پی ٹی آئی کا ٹویٹر اکاؤنٹ گالی گلوچ، بہتان اور کیچڑ اُچھالنے کا مستقل اڈہ بنا ہوا ہے.علیمہ خان جیل اپنے بھائی کی عیادت نہیں، ٹویٹر پر گالی دینے کی ڈکٹیشن لینے جاتی ہیں: عظمٰی بخاری
ناصف اعوان.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ”کی بورڈ وارئیرز” گزشتہ ڈھائی برس سے مسلسل پاکستان آرمی اور اس کے سربراہ کو بے بنیاد پراپیگنڈے اور آے آئی جنریٹڈ وڈیوز کے ذریعے منظم حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تحریکِ فساد کے یہ ”انوکھیلاڈلے“ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں، مگر جب ان پر کوئی سوال اٹھائے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے۔بانی پی ٹی آئی کا ٹویٹر ہینڈل گالی گلوچ، بہتان تراشی اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا گڑھ بن چکا ہے، جبکہ علیمہ خان جیل میں بھائی کی عیادت نہیں بلکہ ڈکٹیشن لینے جاتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر کس کو گالی دینی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے والد کے بارے میں جو قابلِ مذمت زبان استعمال کی جا رہی ہے، وہ بھارتی میڈیا کے لیے پروپیگنڈہ مواد بن چکی ہے۔ عظمٰی بخاری نے نشاندہی کی کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن خود ان کی خراب ذہنی حالت کا اعتراف کرتی ہیں، لیکن جب کوئی اور یہ حقیقت بیان کرے تو یہ غصہ کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی ماضی میں جنرل باجوہ سے عہدہ برقرار رکھنے کی منتیں کرتے رہے اور انہوں نے اسے تاحیات ایکسٹینشن کی پیشکش بھی کی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کیا۔ انکا کہنا تھاکہ تحریک انصاف والیمعصومیت کا لبادہ اوڑھ کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ پوری قوم ان کی سیاست، طرزِ عمل اور تقسیم ڈالنے کی روش سے پوری طرح واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے الیکشن سے متعلق الزامات اپنی نااہلی اور تنظیمی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں، کیونکہ پارٹی کی داخلی غلطیوں اور عدالتی فیصلوں کے باعث وہ اپنا انتخابی نشان تک برقرار نہ رکھ سکے۔عظمٰی بخاری نے کہا کہ اپنے لیے تقدس اور احترام کا تقاضا کرنے والے دوسروں کے خاندانوں، خواتین اور شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کو معمول بنا چکے ہیں، لیکن جب ان کے اپنے رویے پر سوال اٹھایا جائے تو فوراً احتجاج شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گروہ ہے جو مسلسل سیاسی و ادارہ جاتی معاملات کو متنازع بنا کر ملک میں انتشار اور عدم استحکام کو ہوا دیتا رہا ہے اور یہی جماعت اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قوم خوب جانتی ہے کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کس کے سیاسی رویوں اور کس ذہنیت کا نتیجہ تھے—شہداء کے مجسمے گرانے سے لے کر سرکاری عمارات اور حساس تنصیبات پر حملے تک، ہر واقعہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ایک منظم کوشش تھی۔ ایسے لوگ اب خود کو بے قصور ظاہر کرکے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ پاک–بھارت کشیدگی کے حساس موقع پر بھی ان لوگوں نے غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر ریاستی مؤقف کو کمزور کرنے، اداروں پر الزام تراشی کرنے اور بین الاقوامی سطح پر کنفیوزن پھیلانے کی کوشش کی۔ ایسے بیانات نہ صرف قومی مفاد کے خلاف ہیں بلکہ دشمن میڈیا اور پاکستان مخالف لابیوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔عظمٰی بخاری نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں اور قومی قیادت کے خلاف مسلسل نفرت انگیز مہم چلانے والے آج خود کو مظلوم بنا کر پیش کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں سیاسی مکالمے کو سب سے زیادہ نقصان انہی رویوں نے پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف پراپیگنڈے، بے بنیاد الزامات اور ہر صاحبِ رائے شخص کو نشانہ بنانے کی روش اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ انسان اور جانور میں فرق عقل اور ذمہ داری کا ہے؛ سیاست میں بھی وہی قومیں سر اٹھا کر کھڑی ہوتی ہیں جو برداشت، احترام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو اپناتی ہیں —نہ کہ وہ جو انتشار پھیلانے کو سیاست سمجھ بیٹھتی ہیں –



