
بنوں میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا بڑا حملہ، پانچ اہلکار زخمی،سرچ آپریشن جاری، علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشتگردوں کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان ہے
شہزاد-پاکستان،بنوں،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب دہشتگردوں نے پولیس چوکی پر بھرپور حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملہ انتہائی منظم انداز میں کیا گیا اور شدت پسندوں نے چھوٹے اسلحے کے ساتھ ساتھ بھاری ہتھیار بھی استعمال کیے۔
عینی شاہدین کے مطابق رات تقریباً 2 بجے اچانک فائرنگ کی آوازیں پورے علاقے میں گونج اٹھیں۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ چوکی کے گرد و نواح میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے فوری پوزیشن سنبھالی اور دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشتگردوں کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد دہشتگرد مارے جانے اور زخمی ہونے کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم حملہ آور تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوسکتے ہیں۔
چوکی پر تعینات اہلکاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر حملہ روکا
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر اہلکار بروقت اور جرات مندانہ کارروائی نہ کرتے تو حملہ مزید بڑا جانی نقصان کا باعث بن سکتا تھا۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ڈی آئی جی اور ڈی پی او موقع پر پہنچ گئے — سرچ آپریشن میں بھاری نفری شامل
حملے کے بعد ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کی خصوصی ہدایات پر ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی کی قیادت میں پولیس کی اضافی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ پولیس جدید ہتھیاروں اور آلات کی مدد سے علاقے کی چھان بین کر رہی ہے جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کردی گئی ہے۔
ڈی آئی جی سجاد خان اور ڈی پی او یاسر آفریدی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اہلکاروں سے بریفنگ لی۔ دونوں افسران نے حملہ پسپا کرنے پر اہلکاروں اور مقامی عوام کی بہادری کو سراہا۔
"پولیس اور عوام دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملاتے رہیں گے” — پولیس حکام
ڈی آئی جی بنوں نے اپنے بیان میں کہا:
"بنوں کی پولیس اور عوام وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔ دہشتگرد فتنۂ الخوارج کے پیروکار ہیں جو کبھی بھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی بہادری اور عوام کے تعاون کی بدولت دہشتگردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جائے گا۔
سیکیورٹی مزید سخت — علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا
حملے کے بعد بنوں اور ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق سرچ آپریشن مکمل ہونے تک علاقے میں ہر آنے جانے والے شخص کی سخت نگرانی کی جائے گی۔ حساس مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔
علاقے کے لوگوں میں تشویش، مگر حوصلے بلند
مقامی رہائشیوں نے حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم پولیس کی بروقت کارروائی اور فوری جواب پر اہلکاروں کی تعریف بھی کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف پولیس کے ساتھ کھڑے ہیں۔



