
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی میں ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جب ڈاکٹروں نے ایک دو دن کے بچے کو مردہ قرار دے دیا اور اس کے نام کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، حالانکہ والدین کی تصدیق پر بچے کی زندہ ہونے کی حقیقت سامنے آئی۔ اسپتال انتظامیہ نے اس سنگین غلطی کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔
روبینہ نامی خاتون نے ہولی فیملی اسپتال میں بچے کو جنم دیا، اور اس کی حالت ابتدائی طور پر تشویشناک تھی۔ ڈاکٹروں نے جلدبازی میں بچے کو مردہ قرار دیتے ہوئے ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ اس سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر طیبہ صدف کا دستخط اور مہر موجود تھی، جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ سرٹیفکیٹ حقیقت میں اسپتال کے عملے کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔
جب والدین نے بچے کو دیکھا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بچہ آکسیجن ماسک کے ساتھ سانس لے رہا تھا۔ فوراً ہی والدین نے بچے کو دوبارہ طبی معائنے کے لیے اسپتال کے عملے کے حوالے کیا، جہاں اس کے زندہ ہونے کی تصدیق کی گئی۔ اس کے بعد بچے کو فوری طور پر وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تاکہ اس کی حالت مزید بگڑنے سے بچ سکے۔
اسپتال کی جانب سے تحقیقات
اس واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر انکوائری کمیٹی قائم کر دی، جو اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ کیسے اور کیوں اس بچے کو مردہ قرار دے دیا گیا اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ کمیٹی کے اراکین اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا عملے کی جانب سے غلطی ہوئی ہے یا کسی دوسری وجہ سے ایسا واقعہ پیش آیا۔ اسپتال کی انتظامیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ انکوائری کے اختتام پر اس غلطی کے حوالے سے عوام کو تفصیلات فراہم کی جائیں گی اور اگر کسی کے خلاف کارروائی ضروری ہوئی تو وہ کی جائے گی۔
فی الحال بچے کا علاج جاری
اسپتال انتظامیہ کے مطابق، بچے کا علاج ابھی جاری ہے اور اس کی حالت میں استحکام آ رہا ہے۔ والدین کو بچے کی حالت سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے اور ڈاکٹرز کی ٹیم اس کی صحت کی مکمل نگرانی کر رہی ہے۔ اسپتال نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ بچے کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنے کے بعد اس کی حالت میں کچھ بہتری آئی ہے۔
والدین کا موقف
والدین نے اسپتال کی اس غلطی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں بچے کی حالت میں تبدیلی پر یقین نہیں آ رہا تھا جب کہ ڈاکٹروں نے بچے کو مردہ قرار دے دیا تھا۔ والدین کا کہنا تھا کہ اگر ان کی نظر سے یہ بات نہ گزرتی کہ بچہ آکسیجن ماسک کے ساتھ سانس لے رہا تھا، تو وہ ممکنہ طور پر اپنے بچے کو کھو دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے انہیں ذہنی طور پر بہت متاثر کیا ہے اور اس کے بعد وہ اسپتال کے عملے کی جانب سے کیے گئے فیصلے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور آئندہ اقدامات
انکوائری کمیٹی کی تشکیل کے بعد، اسپتال انتظامیہ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ آیا اسپتال کے عملے کی جانب سے کسی قسم کی لاپرواہی ہوئی ہے یا معاملے میں کسی تکنیکی یا پروسیجر کی غلطی کا سامنا تھا۔
عوامی تحفظات
یہ واقعہ نہ صرف اسپتال کے عملے کی غلطی کا پتا دیتا ہے بلکہ اس سے عوام میں طبی اداروں پر اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس قسم کے واقعات آئندہ بھی پیش آ سکتے ہیں، جس سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اسپتال انتظامیہ اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
نتیجہ
ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی کے اس واقعے نے صحت کے شعبے میں ایک سنگین غلطی کی نشاندہی کی ہے، جو ممکنہ طور پر کئی زندگیاں بچانے والے اہم فیصلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی تشکیل کے باوجود، یہ واقعہ سوالات اٹھاتا ہے کہ اسپتالوں میں اس قسم کی غیر ذمہ داریوں کا کیا اثر پڑتا ہے اور مریضوں کی حفاظت کے لیے مزید احتیاطی تدابیر کیوں ضروری ہیں۔ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آیا اس میں کسی کی غفلت یا لاپرواہی کا عمل دخل تھا۔


