
ریاست اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن سنگیت سوم نے بنگلہ دیش میں مبینہ طور پر "ہندوؤں اور اقلیتوں کے خلاف مظالم کا ذکر کرتے ہوئے، شاہ رخ خان پر بنگلہ دیشی کرکٹر کے خریدنے پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔سوشل میڈیا پر اور بھارتی میڈیا اداروں نے بی جے پی رہنما کا جو ویڈيو شیئر کیا ہے اس میں بی جے پی کے رہنما خبردار کر رہے ہیں کہ اگر رحمان جیسے کھلاڑی کھیلنے کے لیے بھارت آتے ہیں تو، "ایئر پورٹ کے باہر قدم تک نہیں رکھ پائیں گے، یہ ہم دعوے کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔”واضح رہے کہ 16 دسمبر کو آئی پی ایل کے کھلاڑیوں کی نیلامی کے دوران شاہ رخ خان کی ٹیم نے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو 9.2 کروڑ روپے میں خریدا تھا۔ بی جے پی رہنما نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا، "شاہ رخ خان جیسے غداروں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جس طریقے کی غداری آپ دیش کے ساتھ کر رہے ہیں، تو آپ کو یہاں تک اگر کسی نے پہنچایا، تو ملک کے لوگوں نے پہنچایا ہے۔ آپ کو اگر پیسہ ملتا ہے تو یہاں کے دیش کے لوگوں سے ملتا ہے، لیکن آپ اسی پیسے سے دیش کے ساتھ غداری کرتے ہیں۔”

سنگیت سوم نے کہا، "آپ کبھی پاکستان کو چندہ دینے کی بات کرتے ہیں، کبھی رحمان جیسے کھلاڑیوں کو خریدنے کی بات کرتے ہیں۔ اب یہ اس ملک میں نہیں چلنے والا ہے۔ ان غداروں کے لیے دیش میں کوئی جگہ نہیں رہے گی، یہ میں بتا دینا چاہتا ہوں۔” انہوں نے دہلی سے متصل میرٹھ میں ایک عوامی تقریب کے دوران کہا، "ایک طرف بنگلہ دیش میں ہندو مارے جا رہے ہیں اور دوسری طرف آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کرکٹرز کو خریدا جا رہا ہے۔”ہندوؤں کے ایک روحانی بابا دیو کنندن ٹھاکر نے بھی رحمان کو خریدنے پر شاہ رخ خان پر تنقید کی اور ان کی ٹیم کی انتظامیہ سے کہا کہ وہ انہیں اپنی ٹیم میں کھیلنے کا موقع نا دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سناتن اور ہندوؤں کے عقیدت مندوں نے شاہ رخ کو ملک کا اسٹار بنایا ہے، پھر بھی ٹیم کے مالک نے، "اس بات پر غور کیے بغیر کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو مارا جا رہا ہے اور زندہ جلایا جا رہا ہے اور لڑکیوں پر حملہ کیا جا رہا ہے، بنگلہ دیشی کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔” تاہم کانگریس پارٹی کے رہنما سریندر راجپوت نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خود یہ ایک "غدار” پارٹی ہے۔انہوں نے این ڈی ٹی وی سے بات چیت میں کہا، "وہ شاہ رخ خان پر صرف اس لیے حملہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ ایک مسلمان ہیں۔”


