
بہت زیادہ مالی نقصان کا خدشہ
ماتھیاس شیپ کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بہت سی کمپنیاں یہ خدشہ رکھتی ہیں کہ اگر وہ روس چھوڑ دیں گی، تو انہیں بہت زیادہ مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا، ”جو کمپنیاں چار سالہ خونریزی اور پابندیوں کے بعد بھی روس میں موجود ہیں، وہ وہاں ٹھہرنا چاہتی ہیں۔‘‘ یہ بات تقریباً 260 تاجروں پر مشتمل ایک سروے کے حوالے سے کہی گئی۔
ماتھیاس شیپ کے مطابق روسی مارکیٹ کی اہمیت کو اب بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تخمینوں کے مطابق دنیا میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک روس میں اب بھی تقریباً دو ہزار جرمن کمپنیاں فعال ہیں۔

چیمبر آف کامرس کا اندازہ ہے کہ روس میں جرمن اثاثوں کی مالیت 100 ارب یورو (تقریباً 117.5 ارب ڈالر) سے زیادہ ہے۔ شیپ کا کہنا تھا، ”جرمن اثاثے درحقیقت بڑھ بھی رہے ہیں کیونکہ روسی قوانین منافع کی بیرون ملک بڑے پیمانے پر منتقلی کو روکتے ہیں۔‘‘
شیپ کے مطابق ان جرمن اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے بجائے اس کے کہ انہیں روسی سرکاری بجٹ یا کریملن سے منسلک امیر طبقے کے حوالے کر دیا جائے۔ تاہم مجموعی طور پر روس میں کاروباری ماحول اور جرمن کمپنیوں کی توقعات میں نمایاں خرابی پیدا ہوئی ہے۔ نصف سے زیادہ کمپنیاں اس سال روس کی معیشت کے سکڑنے کی توقع رکھتی ہیں۔ اگر جنگ ختم نہ ہوئی تو پابندیوں میں مزید سختی کا خطرہ ہے۔
نقصان روس کو پہنچ رہا ہے یا جرمنی کو؟
ڈی پی اے کو دستیاب سروے کے نتاائج کے مطابق نصف سے زیادہ جرمن کمپنیاں یہ سمجھتی ہیں کہ پابندیاں روسی معیشت کو ”زیادہ یا بہت زیادہ نقصان‘‘ پہنچا رہی ہیں، جبکہ کریملن حکومت اس سے مختلف رائے رکھتی ہے۔

تاہم سروے کے مطابق، ”روسی مارکیٹ میں فعال 49 فیصد جرمن کمپنیاں یہ بھی مانتی ہیں کہ پابندیاں روس کے مقابلے میں جرمنی کو زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔‘‘
شیپ کے نقطہ نظر سے جرمن اور یورپی سیاست دان پابندیوں کے سامنے روسی معیشت کی ”لچک‘‘ کو کم سمجھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ”معلومات کی کمی روس کی اصل صورتحال کے بارے میں غلط اندازوں کا باعث بن رہی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا، ”خواہش پر مبنی سوچ اور بعض اوقات حقیقت سے انکار روسی عوام کی برداشت کو کم سمجھنے کا باعث بنتے ہیں۔ یوکرین میں خونریزی کے ساتھ ساتھ چلنے والی معاشی جنگ میں یہ ایک بہت بڑا اور خطرناک جؤا ہے۔ یورپی سیاست دان مزید پابندیوں اور معاشی دباؤ کے ذریعے روس کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کرنے کی امید رکھتے ہیں۔‘‘
سروے کے مطابق روس میں بنیادی طور پر آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن، ادویات، زراعت اور خوراک کی صنعت میں ترقی کی توقع ہے۔ جرمن روسی چیمبر آف کامرس 750 اراکین کے ساتھ روس میں سب سے بڑا غیر ملکی کاروباری ادارہ ہے۔



