
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ انجینئرز کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی خدمات کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان معرکۂ حق کے بعد معرکۂ ترقی میں بھی کامیابی حاصل کرے گا اور 2035 تک ملک کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور کی سالانہ ایلومنائی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر، چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اقرار احمد خان، ڈائریکٹر ایلومنائی احمد نوید، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، ڈینز، ڈائریکٹرز، شعبہ جاتی سربراہان، فیکلٹی ممبران اور ملک و بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے یو ای ٹی کے ہزاروں سابق طلبہ نے شرکت کی۔ کینیڈا، امریکہ، سعودی عرب، دبئی، برطانیہ اور دیگر ممالک سے آئے ایلومنائی نے بھی تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یو ای ٹی کے ایلومنائی کی حیثیت سے اپنی مادرِ علمی میں خطاب کرنا ان کے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی یو ای ٹی کے گریجویٹ ہیں اور اس ادارے نے انہیں نہ صرف اعلیٰ تکنیکی تعلیم دی بلکہ قائدانہ صلاحیتیں بھی عطا کیں۔ انہوں نے اپنے دورِ طالب علمی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سٹوڈنٹس یونین کے صدر رہے اور اس دوران طلبہ کے لیے متعدد اصلاحی اقدامات کیے، جن میں ہفتۂ طلبہ کا آغاز اور کانووکیشن کی بحالی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج انہیں ملک کی خدمت کا جو موقع ملا ہے، وہ یو ای ٹی کی ہی برکت کا نتیجہ ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ انجینئرز انفراسٹرکچر کی تعمیر، صنعتی ترقی، توانائی منصوبوں، مواصلاتی نظام، آئی ٹی، ڈیجیٹل حل اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ سڑکیں، پل، ڈیم، بجلی کے نظام، فیکٹریاں اور جدید آئی ٹی حل انجینئرز کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لیے جدید انجینئرنگ، تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے ملکی ترقی کے حوالے سے اپنے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے علم پر مبنی معیشت کی طرف جانا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان انجینئرز اور ایلومنائی پر زور دیا کہ وہ تحقیق، انوویشن اور صنعتی ترقی میں فعال کردار ادا کریں تاکہ پاکستان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو قومی ترقی کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔
احسن اقبال نے اعلان کیا کہ حکومت نوجوان انجینئرز کو برسرِ روزگار کرنے کے لیے رواں سال ایک جامع انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی نے اس پروگرام کا مکمل منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت جس طرح میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کے لیے ہاؤس جاب لازمی ہوتی ہے، اسی طرح انجینئرز کے لیے بھی ترقیاتی منصوبوں میں ایک سالہ انٹرن شپ لازمی قرار دی جائے گی، جس کے دوران انہیں وظیفہ بھی دیا جائے گا۔ یہ پروگرام وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جلد لانچ کیا جائے گا، جس سے نوجوان انجینئرز کو عملی تجربہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے اساتذہ اور طلبہ پر زور دیا کہ تحقیق کو عملی مسائل کے حل سے جوڑا جائے تاکہ تحقیق کے نتائج براہِ راست قومی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے طلبہ کل کے معمارِ پاکستان ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو ترقی کی نئی منازل تک لے جائیں۔ انہوں نے یو ای ٹی کے تعلیمی اور تحقیقی کردار کو سراہتے ہوئے ادارے کے لیے حکومتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے بعد دنیا میں ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ یو ای ٹی سمیت تمام جامعات کی لیبارٹریز کو صنعت کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ انٹرپرائز ایکو سسٹم کو فروغ دیا جا سکے اور تجربہ کار افرادی قوت تیار ہو۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہو چکی ہے، مہنگائی میں واضح کمی آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے قوم کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس موقع پر وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے اپنے خطاب میں ایلومنائی ری یونین کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تقریبات یونیورسٹی اور سابق طلبہ کے درمیان مضبوط روابط کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی معیار، تحقیقی منصوبوں اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ یو ای ٹی عالمی معیار کی انجینئرنگ تعلیم فراہم کر رہا ہے۔
وائس چانسلر نے ایلومنائی کے تعاون کو سراہتے ہوئے بتایا کہ یو ای ٹی کے 75 ہزار سے زائد ایلومنائی دنیا بھر میں ادارے کے سفیر اور روشن ستارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایلومنائی کی مالی معاونت سے رواں سال مستحق طلبہ میں 80 کروڑ روپے کے اسکالرشپس تقسیم کیے جائیں گے، جو ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔
تقریب کے اختتام پر ایلومنائی نے اپنی مادرِ علمی سے وابستہ یادیں تازہ کیں، مختلف ڈیپارٹمنٹس کا دورہ کیا اور یونیورسٹی کے لیے نمایاں خدمات اور عطیات فراہم کرنے والے ایلومنائی کو خصوصی شیلڈز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر یو ای ٹی میوزک سوسائٹی نے بھی اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔



