
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی کے ساتھ
گلگت بلتستان کے برزل پاس میں برفانی تودے کی زد میں آ کر پاک فوج کے دو اہلکار اور ایک شہری مشین آپریٹر شہید ہو گئے ہیں، جنہوں نے فوجی نقل و حرکت کو ممکن بنانے کے لیے انتہائی مشکل موسمی حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ہفتے کے روز اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات فراہم کیں۔
واقعہ کی تفصیلات
آئی ایس پی آر کے مطابق 2 جنوری 2026 کی رات پاک فوج نے برزل پاس میں برف صاف کرنے کے لیے ایک آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ کیپٹن اسمد گلفام کی قیادت میں یہ آپریشن جمعہ کی شب شروع کیا گیا تھا اور ہفتے کی صبح تک جاری رہا تاکہ علاقے میں فوجی نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ برزل پاس ایک دشوار گزار علاقہ ہے جہاں شدید برفباری اور برفانی تودے آنا معمول کی بات ہیں، اس لیے فوجی اہلکار اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 3 جنوری 2026 کو رات تقریباً دو بجے، جب برف صاف کرنے کا آپریشن جاری تھا، اچانک ایک برفانی تودہ گرنے سے کیپٹن اسمد گلفام، سپاہی رضوان اور ایک شہری مشین آپریٹر برف تلے دب گئے۔ اس افسوسناک واقعے میں تینوں افراد شہید ہو گئے۔
کیپٹن اسمد گلفام کا تعلق لاہور سے تھا اور ان کی عمر 28 سال تھی، جبکہ 32 سالہ سپاہی رضوان کا تعلق اٹک سے تھا۔ مشین آپریٹر عیسیٰ کا تعلق استور سے تھا اور وہ بھی اس سانحے میں شہید ہو گئے۔
قریبی افراد کی امداد
آئی ایس پی آر کے مطابق، اس حادثے کے بعد فوراً امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں، جنہوں نے برف کے تودے تلے دبے ہوئے چار افراد کو زندہ نکال لیا۔ تاہم، کیپٹن اسمد، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسیٰ کی زندگیوں کو بچایا نہ جا سکا۔ ان کی شہادت ایک بڑا سانحہ ہے اور یہ واقعہ فوجی اہلکاروں کی قربانی اور وطن کے دفاع کے لیے ان کی پختہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر کا بیان
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید ہونے والے اہلکاروں نے انتہائی دشوار موسمی حالات میں ایک مشکل آپریشن کی قیادت کرتے ہوئے افواج کی آپریشنل نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان افراد کی قربانی اور فرض شناسی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاک فوج کے تمام افسران اور جوان مادر وطن کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں اور وہ فرض کی ادائیگی میں جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
شہیدوں کی قربانی کا اعتراف
آئی ایس پی آر نے کہا کہ کیپٹن اسمد گلفام، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسیٰ کی قربانی پاکستان کے افواج کے عزم، حب الوطنی اور وطن کے دفاع کے لیے ان کی استقامت کی علامت ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی قربانی پاک فوج کی عظمت کا ایک اور مثال بنے گی۔
پاکستانی فوج کے حکام نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی اہلکاروں کی قربانیاں پاکستان کے دفاع اور عوام کی حفاظت کے لیے بے مثال ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فوج اپنے فرض کی ادائیگی میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
محاذ پر کامیاب آپریشن اور مزید امدادی کوششیں
برزل پاس میں اس برفانی تودے کے حادثے کے باوجود پاک فوج نے علاقے میں اپنی آپریشنل فعالیت کو جاری رکھا ہے۔ فوجی حکام نے کہا کہ یہ آپریشن جاری رہے گا تاکہ برف سے روڈ کی صفائی اور دیگر ضروری فوجی سرگرمیاں مکمل کی جا سکیں۔ امدادی ٹیمیں برفانی تودوں کے خطرات سے آگاہ ہیں اور وہ علاقے میں تمام ضروری اقدامات اٹھا رہی ہیں تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ فوجی اہلکاروں نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے ملک اور عوام کی خدمت کی ہے، اور ان کی قربانیاں کسی بھی قربانی سے کم نہیں۔ ان کی جرات، بہادری اور فرض شناسی کے حوالے سے پاکستانی قوم ان پر فخر کرتی ہے۔
پاکستانی عوام کا اظہار افسوس
پاک فوج کے اس غمگین واقعے کے بعد، پاکستانی عوام نے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے اور ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی شہریوں نے کیپٹن اسمد، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسیٰ کے لیے دعائیں کیں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
پریس کے ساتھ تعزیت
اس واقعے پر سیاسی رہنماؤں، حکومتی نمائندوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان، وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
پاکستان فوج کا عزم
پاک فوج نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ وطن کی حفاظت اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔ کیپٹن اسمد گلفام، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسیٰ کی قربانیاں اس عزم کا عملی ثبوت ہیں کہ پاک فوج مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہے، چاہے وہ برفانی تودے ہوں یا کسی اور قسم کے چیلنجز۔
آگے کا راستہ
اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاک فوج اپنے افسران اور جوانوں کی قربانیوں کو سراہتی ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اس کے علاوہ، پاک فوج نے اپنے آپریشنوں کی شدت اور مشکلات کے باوجود اپنی تمام تر توانائیاں ملک کی حفاظت کے لیے وقف کی ہیں، اور اسی جذبے کے ساتھ وہ آگے بڑھیں گے۔
پاکستانی قوم اس قربانی کو سراہتے ہوئے ان شہداء کی جرات، بہادری اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔


