پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

ناظم اعلی وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری کی اسلام آباد راولپنڈی کے دینی مدارس کے اجتماعات میں شرکت، سینکڑوں حفاظ کی دستار بندی

ہماری دینی مدارس نہ صرف علم دین کا تحفہ دے رہے ہیں بلکہ ان مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ معاشرے میں مثالی کردار ادا کر رہے ہیں

ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلی مولانا محمد حنیف جالندھری نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف دینی مراکز میں منعقدہ عظیم الشان اجتماعات سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے دینی مدارس کی اہمیت اور کردار پر روشنی ڈالی۔ ان اجتماعات میں سینکڑوں حفاظ کرام کی دستار بندی کی گئی اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔

دینی مدارس کا کردار اور خدمات

مولانا محمد حنیف جالندھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں جو قرآن و سنت کے حقیقی علم کا احیاء کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کی خدمات قوم کے لئے نہایت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ ادارے بچوں کی دینی، اخلاقی اور تعلیمی کفالت کر رہے ہیں۔ مولانا جالندھری نے کہا، "ہماری دینی مدارس نہ صرف علم دین کا تحفہ دے رہے ہیں بلکہ ان مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ معاشرے میں مثالی کردار ادا کر رہے ہیں اور اخلاقی طور پر بہتر افراد بن کر سامنے آ رہے ہیں۔”

خطاب کے دوران مدارس کی خدمات کا ذکر

مولانا محمد حنیف جالندھری نے اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام رواں سال مکمل کرنے والے قرآن حافظ بچوں کی تعداد کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ سولہ ہزار (116,000) خوش نصیب بچوں نے قرآنِ کریم کا حفظ مکمل کیا ہے، جو کہ ایک تاریخی سنگ میل ہے اور دینی مدارس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس کی دینی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کو آب زر سے لکھنے کے قابل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مدارس معاشرے کو باکردار افراد فراہم کر رہے ہیں جو نہ صرف علم دین میں ماہر ہیں بلکہ ان کی زندگیوں میں عملی نمونہ بھی ہے۔

دینی مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا جواب

اجتماعات میں مختلف جید علماء کرام نے بھی خطاب کیا اور دینی مدارس کے خلاف پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس نے ہمیشہ ملک میں امن، رواداری، اخلاقی اصلاح اور دینی تشخص کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے کردار کو مشکوک بنانے کی کوششیں ملک کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک سازش ہے، جو کہ کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ علماء کرام نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس دینیہ کے تعلیم یافتہ افراد نہ صرف دین کی خدمت کر رہے ہیں بلکہ وہ پورے معاشرے کے لئے ایک مثالی نمونہ ہیں۔

دستار بندی کی تقریب

اجتماعات کے دوران مولانا محمد حنیف جالندھری نے سینکڑوں حفاظ کرام کی دستار بندی کی، جو کہ دینی مدارس سے مکمل قرآن حفظ کرنے کے بعد اس اہم مقام پر پہنچے تھے۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جب دینی مدارس کے طلبہ کی محنت کو سراہا گیا اور ان کے علمی سفر کی کامیابی کا اعتراف کیا گیا۔ اس موقع پر بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں انعامات اور اسناد بھی تقسیم کی گئیں، جن میں تعلیمی اور دینی میدان میں نمایاں کارکردگی کے حامل بچوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔

خصوصی دعائیں اور ملت کی فلاح

تقریبات کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، استحکام اور دینی ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے لیے بھی دعائیں کی گئیں تاکہ اللہ تعالی ان کی مشکلات کو حل کرے اور انہیں کامیابی و سکون دے۔ علماء کرام نے اس موقع پر عالمی سطح پر مسلمانوں کی یکجہتی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی دعائیں کیں۔

اجتماعات میں شریک شخصیات

ان اجتماعات میں وفاق المدارس العربیہ کے نائب صدر مولانا سعید یوسف خان، ناظم وفاق المدارس پنجاب مولانا مفتی عبدالرحمن، مولانا احمد حنیف جالندھری، مولانا قاضی مشتاق، مولانا سیف اللہ سیفی، مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن، مولانا فخر الاسلام عباسی، مولانا عبدالقدوس محمدی، مولانا صلاح الدین، مولانا مفتی عمران اور دیگر جید علماء کرام بھی شریک تھے۔ ان علماء کرام نے اپنے خطابات میں دینی مدارس کی اہمیت اور ان کے کردار کو اجاگر کیا اور مختلف دینی، تعلیمی اور اصلاحی موضوعات پر روشنی ڈالی۔

اجتماعات میں عوام کا جوش و جذبہ

یہ اجتماعات دینی مدارس کے طلبہ، اساتذہ اور عوام کے لیے ایک اہم موقع تھے جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ طلبہ نے اپنے اساتذہ کے زیر سایہ قرآنِ کریم حفظ کیا اور اس موقع پر ان کے والدین اور دیگر عزیزوں نے بھی اس کامیابی کا جشن منایا۔ عوامی سطح پر ان اجتماعات کو بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ دینی مدارس کی خدمات کو ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

دینی مدارس کی فلاحی خدمات

مولانا محمد حنیف جالندھری نے اپنے خطاب میں دینی مدارس کی فلاحی خدمات کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ ان اداروں نے ہمیشہ اپنی مدد آپ کے تحت قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدارس صرف دینی علم تک محدود نہیں ہیں بلکہ معاشرتی ترقی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں اور معاشرے میں خوشحال، باکردار اور فعال افراد پیدا کر رہے ہیں۔

اختتام

مولانا محمد حنیف جالندھری نے اس موقع پر اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کی خدمات اور ان کے کردار کی اہمیت کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی ان مدارس کو اپنی ہدایت سے روشنی دے اور ان کے کردار کو مزید مستحکم کرے تاکہ یہ ادارے ملک و ملت کی خدمت میں اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کر سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button