
بھارت: نوجوانوں میں جرمن زبان سیکھنے کا جنون کیوں؟
جرمنی کے اپرچونیٹی کارڈز (غیر یورپی ہنرمند کارکنوں کے لیے ویزا) میں سے تقریباً ایک تہائی بھارتیوں کو جاری کیے جاتے ہیں
بھارتی روزنامے انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست میں قائم متعدد زبان سکھانے والے اداروں کے نمائندوں نے اسے بتایا کہ جرمن زبان سیکھنے میں دلچسپی میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجوہات جرمنی میں بغیر فیس تعلیم کی سہولت اور نسبتاً روزگار کے بہتر مواقع ہیں۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک برس کے دوران امریکی حکام کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد کو واپس بھیجے جانے کے واقعات ریاست میں دیکھے گئے ہیں، جس سے نوجوانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
نئی دہلی میں جرمن سفارت خانے کے ترجمان کاسپر مائر کے مطابق جرمنی کے اپرچونیٹی کارڈز (غیر یورپی ہنرمند کارکنوں کے لیے ویزا) میں سے تقریباً ایک تہائی بھارتیوں کو جاری کیے جاتے ہیں۔ ”کووڈ وبا کے بعد بھارت میں جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد، چاہے وہ شینگن ہوں یا قومی ویزے، ہر سال دو عددی شرح سے بڑھی ہے، اور ہمیں توقع ہے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہے گا۔‘‘
مختصر یہ کہ، ڈنکی روٹ کی مار کھانے کے بعد نوجوانوں نے اب جرمنی جانے کا قانونی، محفوظ اور باعزت راستہ چن لیا ہے۔ جہاں خواب دیکھنے پر پابندی نہیں، صرف دستاویزات مکمل ہونے چاہییں۔
اگرچہ ریاست وار اعداد و شمار دستیاب نہیں تھے، تاہم مائر نے کہا کہ بھارت سے ویزا درخواستوں کے حوالے سے ہریانہ غالباً سرفہرست تین ریاستوں میں شامل ہے۔
مائر کے مطابق اس وقت جرمنی میں غیر ملکی طلبہ کی سب سے بڑی تعداد بھارتیوں پر مشتمل ہے، جہاں تقریباً 60 ہزار بھارتی طلبہ مختلف کورسز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ جرمن اکیڈمک ایکسچینج سروس (ڈی اے اے ڈی) کے مطابق 2020 میں یہ تعداد 28,905 تھی۔
ہریانہ کے حصار میں قائم ادارے اسکائی ٹیک ڈیسٹینیشن کے ڈائریکٹر راجیش کنڈو نے بتایا جرمنی میں 400 سے زائد انٹرن شپ پر مبنی پروگرامز موجود ہیں، جو طلبہ کو نرسنگ، ریٹیل، فوڈ پروسیسنگ اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں روزگار حاصل کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ 8 سے 10 ماہ کے جرمن زبان کے کورسز فراہم کرتا ہے، جن کی فیس 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
کنڈو کے مطابق جرمن زبان سیکھنے کا جنون ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن اب تقریباً ہر ضلع میں دو یا تین ادارے یہ زبان سکھا رہے ہیں۔ کینیڈا، آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں طلبہ کو بڑھتی مشکلات کا سامنا ہے، اسی لیے بہت سے لوگ جرمنی کا رخ کر رہے ہیں… ہم نے اب ایک سابق جرمن بینک ملازم کے ذریعے آن لائن سیشنز بھی شروع کر دیے ہیں۔
اس نئے رجحان کے بارے میں پوچھے جانے پر ہریانہ کے محکمۂ خارجہ تعاون کے ڈائریکٹر جنرل اشوک مینا نے کہا کہ ریاستی حکومت بیرونِ ملک، بشمول یورپی ممالک، روزگار کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے مواقع کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

’جرمن زبان مشکل لیکن کوئی اور راستہ نہیں‘
جرمنی جانے کے خواہشمند افراد میں سُمن (28)، رنجنا (18) اور یوگیتا (15) بھی شامل ہیں، جو ہریانہ کے ضلع حصار کے گاؤں دھانی سیسوال سے تعلق رکھنے والی بہنیں ہیں۔ رنجنا اور سُمن اپنا آٹھ ماہ کا کورس مکمل کر چکی ہیں، جبکہ نویں جماعت کی طالبہ یوگیتا ابھی اپنی تیاری کا آغاز کر رہی ہے۔
سُمن، جو ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز ڈگری رکھتی ہیں، کہتی ہیں، ”میں جانتی ہوں کہ جرمن زبان مشکل ہے، لیکن میں وہ خطرات مول نہیں لینا چاہتی جو دوسروں نے امریکہ جانے کے لیے ڈنکی روٹ اختیار کرتے وقت لیے۔ اگر میں جرمنی میں کسی ادارے میں تعلیم کے ساتھ تین سالہ انٹرن شپ مکمل کر کے نوکری حاصل کر لوں، تو میں اپنے خاندان کی مدد کرسکتی ہوں۔
سُمن کے والد بلراج سینی نے کہا،”ہم صرف آدھا ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ سُمن بیرونِ ملک جانے کے لیے زیادہ محفوظ راستہ اختیار کرے۔‘‘
بھوانی ضلع کے دھانی ماھو گاؤں میں پریتیکا تنور (21) کی کامیابی کو اسکائی ٹیک ڈیسٹینیشن میں زیرِ تعلیم دیگر طلبہ کے لیے ”ایک تحریک‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
خاندان کے افراد کے مطابق، پریتیکا نے اپنا جرمن زبان کا بی ون کورس مکمل کرنے کے بعد اس وقت جرمنی میں فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں ڈوئل ڈگری پروگرام کر رہی ہیں، جس میں تعلیم کے ساتھ انٹرن شپ بھی شامل ہے۔ وہ اڈیکا گروپ سے منسلک ہیں، جہاں انہیں اس وقت 950 یورو ماہانہ معاوضہ ملتا ہے اور رہائش مفت فراہم کی گئی ہے۔ خاندان کے مطابق، تین سالہ پروگرام مکمل ہونے کے بعد ان کی متوقع آمدنی تقریباً 3,000 یورو ماہانہ ہو سکتی ہے۔



