انٹرٹینمینٹتازہ ترین

’یورپی ثقافتی دارالحکومت‘ کا اعزاز کن شہروں کو ملے گا؟

ٹرینچن کے ثقافتی مرکز کی حال ہی میں تزئین و آرائش کی گئی ہے، جس پر آٹھ ملین یورو کا خرچہ آیا

زلکے وُنش 

سن 2026 میں فن لینڈ کا شہر اولو اور سلوواکیہ کا شہر ٹرینچن یورپ کے ’’کلچرل فلیگ شپ‘‘ ہوں گے۔ جانیں کہ یورپ کا ’’ثقافتی دارالحکومت‘‘ پروگرام کس طرح شہروں میں دیرپا تبدیلی لاتا ہے۔

ٹرینچن مغربی سلوواکیہ کا ایک خوبصورت شہر ہے، جو اپنے تاریخی قلعے کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ قلعہ ایک چٹان پر تعمیر کیا گیا تھا جبکہ ٹرینچن اس قلعے کے نیچے واقع ایک بڑے چوک کے گرد آباد ہے۔ یہاں کیفے اور بارز اس شہر کو مزید دلکش بناتے ہیں۔

اس تاریخی شہر میں یہودیوں کی ایک قدیمی عبادت گاہ بھی ہے، جسے حال ہی میں بحال کیا گیا۔ یہ سیناگوگ یا کنیسہ ٹرینچن میں یہودی برادری کی صدیوں پرانی ایک طاقتور علامت قرار دیا جاتا ہے۔ آج یہ عبادت گاہ شہر کے وسط میں ایک سیاحتی مقام اور ثقافتی تقریبات کے لیے ایک اہم جگہ کے طور پر مشہور ہے۔

ٹرینچن میں تقریباً 55,000 لوگ رہتے ہیں۔ سلوواکیہ کے بیشتر حصوں کی طرح یہ شہر بھی  چیک ریپبلک کے ساتھ سرحد کے قریب ہی واقع ہے۔

بہت سے شہری وزیر اعظم رابرٹ فیکو کی قیادت میں بائیں بازو کی عوامی حکومت سے ناخوش ہیں، جس کا قوم پرست قوتوں سے تعاون، یورپی یونین اور نیٹو کے خلاف جارحانہ رویہ اور روس نواز پالیسیاں وسیع پیمانے پر تشویش کا باعث ہیں۔ سلوواک عوام اس تناظر میں حکومت مخالف مظاہرے کر چکے جبکہ یہ تشویش حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کا ایک اشارہ بھی ہے۔

پورے شہر کے لیے ایک فیسٹیول

ٹرینچن کے شہری شعوری طور پر اس قدامت پسند تصویر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی سیاست کے برعکس اس شہر میں دائیں بازو کے نظریات پنپنے میں ناکام رہے ہیں۔ آئندہ سال اس شہر میں کئی ایسے ایونٹ منعقد کیے جائیں گے، جن کی بدولت قدامت پسندی اور دقیانوسی سوچ کا مقابلہ کیا جائے گا۔

لائیولی نیبرہڈز ایک ایسا ہی پراجیکٹ ہے، جس کے تحت ٹرینچن میں لائٹ آرٹ فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس ایونٹ میں روشنی کی تنصیبات کے ذریعے شہر کی کہانی کو دوبارہ بیان کرنا اور نئے آغاز کا احساس پیدا کرنا ہے۔

لائیولی نیبرہڈز پراجیکٹ کے تحت شہر بھر میں مختلف ایونٹس ہوں گے، جنہیں بنیادی طور پر  سماجی تقسیم پر قابو پانے کی ایک عملی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ شہر کی انتظامیہ کو امید ہے کہ اس طرح کے ایونٹس بالخصوص نوجوانوں کے لیے زیادہ پرکشش ہوں گے۔

اولو کو کیوں چنا گیا؟

فن لینڈ دنیا کے خوش حال ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ملک ہاکی، ساؤنا باتھ، ہیوی میٹل بینڈز حتیٰ کہ عجیب و غریب عالمی مقابلوں جیسے ایئر گٹار اور ربڑ بوٹ تھروئنگ کے لیے بھی مشہور ہے۔

فن لینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی بڑی کمپنی نوکیا کا بھی گھر ہے، جو اس اسکینڈینیوین ملک کو عالمی ٹیکنالوجی مرکز بناتا ہے۔ اس ملک میں فنون کا ایک متنوع منظر بھی موجود ہے۔

سن 2026 کے دوران اولو ان تمام اہم موضوعات کو مربوط انداز میں دنیا کے سامنے رکھنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ شمالی فن لینڈ کا یہ شہر دارالحکومت ہیلسنکی سے تقریباً 600 کلومیٹر دور واقع ہے۔

نوکیا نے اولو میں ایک کیمپس قائم کیا ہے، جو 5G اور 6G ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور تحقیق اور تعلیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

اولو میں آرٹ کا منظر نامہ قدرت سے قریبی تعلق کے لیے ممتاز ہے۔

برف، سونا اور روشنی

آئندہ برس اولو میں ہونے والی تقریبات کا مرکزی خیال ہے کہ ‘حوصلہ بلند رہنا چاہیے‘۔ اس پروگرام کا مقصد لوگوں کو ثقافت کے ذریعے یکجا کرنا اور فن اور قدرت کو ایسے طریقوں سے جوڑنا ہے، جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔

اس پروگرام کے تحت فن لینڈ کے قدرتی اور ثقافتی پہلوؤں کے ذریعے آگاہی و شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ پہلو ہیں برف، ساؤنا باتھ اور روشنی اور اندھیرے کا امتزاج۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی کچھ ایونٹس ترتیب دیے گئے ہیں۔

فن لینڈ: مسلسل ساتویں مرتبہ سب سے زیادہ خوش قوم کا ملک

اولو میں یورپی کیپیٹل آف کلچر کا موضوع ہے ”ثقافتی موسمیاتی تبدیلی،‘‘ جو نہ صرف ایک بروقت پیغام ہے بلکہ یہ پائیدار ثقافتی زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

‘یورپی ثقافتی دارالحکومت‘ نامی پروگرام کیسے شروع ہوا؟

یورپی یونین کا ”یورپی ثقافتی دارالحکومت‘‘ یونان کی سابق وزیر ثقافت میلینا مرکوری اور فرانسیسی وزیر ژاک لانگ کا برین چائلڈ ہے۔ سن 1985 میں شروع ہونے والا یہ پروگرام آج کل یورپ کے سب سے کامیاب ثقافتی اقدامات میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد سرد جنگ کے بعد یورپ میں ثقافتی خلیج کو ختم کرنا اور مشترکہ شناخت کو فروغ دینا تھا۔ ایتھنز ایسا پہلا شہر تھا جس نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

یورپی کمیشن کے مطابق اس پروگرام کا مقصد یورپ کے ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنا، شہریوں میں مشترکہ ثقافتی علاقے سے تعلق کا احساس بڑھانا اور شہروں کی طویل المدتی ترقی میں ثقافت کا کردار مضبوط بنانا ہے۔ 1985 سے اب تک پیرس، ایمسٹرڈم، میڈرڈ جیسے بڑے شہروں سمیت 70 سے زائد یورپی شہروں کو یہ اعزاز دیا جا چکا ہے۔

حالیہ برسوں میں اس پروگرام نے پائیداری، سماجی شرکت اور ڈیجیٹل جدت پر زور دینا شروع کیا ہے۔ کئی منصوبے آرٹ کو شہری ماحولیاتی نظام، سرکلر اکانومی اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

یورپی ثقافتی دارالحکومت کا تصور قومی سرحدوں سے آگے بڑھ کر ثقافت کو مشترکہ زبان بناتا ہے، جو نہ صرف سیاحت اور معیشت کو فروغ دیتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور پائیداری کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button