یورپاہم خبریں

یورپی یونین وینزویلا پر مشترکہ مؤقف اپنانے میں ناکام

ہنگری کی مخالفت، 26 رکن ممالک کی جانب سے الگ بیان جاری

جواد احمد-جرمنی
یورپی یونین وینزویلا کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے، جب اتوار کو ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تمام 27 رکن ممالک کسی متفقہ بیان پر اتفاق نہ کر سکے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سروس کے مطابق، ہنگری کی جانب سے حمایت نہ کیے جانے کے باعث بلاک کو مشترکہ اعلامیے کے بجائے ایک ایسا بیان جاری کرنا پڑا جس کی تائید 27 میں سے 26 رکن ممالک نے کی۔
جاری کردہ بیان میں یورپی یونین نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وینزویلا کو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ یورپی یونین کے نزدیک وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے پاس “جمہوری قانونی حیثیت” موجود نہیں ہے، اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال جمہوری اقدار اور آئینی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
یورپی یونین کے اس بیان میں دراصل برسلز کے اعلیٰ سطحی حکام کے حالیہ بیانات کی بازگشت سنائی دی، جن میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین شامل ہیں۔ ان رہنماؤں نے ماضی قریب میں متعدد مواقع پر وینزویلا میں شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور زور دیا تھا کہ وینزویلا کی حکومت کو جمہوری اصولوں کی طرف واپس آنا چاہیے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وینزویلا کو نہ صرف سیاسی اصلاحات کی ضرورت ہے بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ یورپی یونین کے 26 رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وینزویلا میں سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ یورپ کے لیے بھی سکیورٹی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
دستاویز کے مطابق، منظم جرائم کے نیٹ ورکس اور منشیات کی غیر قانونی ترسیل سے نمٹنا یورپی یونین کی ترجیحات میں شامل ہے، اور وینزویلا کو اس ضمن میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ یورپی یونین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے قانون کی بالادستی اور جمہوری اداروں کا مضبوط ہونا ناگزیر ہے۔
تاہم ہنگری کی جانب سے اس بیان کی حمایت نہ کیے جانے نے یورپی یونین کے اندر خارجہ پالیسی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تقسیم کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ہنگری حالیہ برسوں میں متعدد بین الاقوامی معاملات پر یورپی یونین کے مرکزی مؤقف سے ہٹ کر موقف اختیار کرتا رہا ہے، جس کے باعث بلاک کی متفقہ سفارتی حکمتِ عملی متاثر ہو رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یورپی یونین کے 26 ممالک کا مشترکہ بیان ایک مضبوط پیغام دیتا ہے، لیکن مکمل اتفاقِ رائے کا فقدان یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی ساکھ اور اثر پذیری کو محدود کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود، یورپی یونین کی قیادت کا مؤقف ہے کہ وینزویلا میں جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
یورپی حکام کے مطابق، آئندہ دنوں میں وینزویلا کی صورتحال پر مزید سفارتی مشاورت متوقع ہے اور یورپی یونین خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سیاسی حل کی کوششیں جاری رکھے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button