
حالیہ سائنسی تحقیق نے الزائمر کی بیماری اور منہ میں پائے جانے والے نقصان دہ بیکٹیریا کے درمیان ایک ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی ہے، جس نے طبی اور سائنسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، منہ کی ناقص صحت نہ صرف دانتوں اور مسوڑھوں کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ طویل عرصے میں دماغی صحت پر بھی منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
سائنسدانوں نے الزائمر کے مریضوں کے دماغی ٹشوز کا تفصیلی مطالعہ کیا، جس کے دوران انہیں Porphyromonas gingivalis نامی بیکٹیریا کے شواہد ملے۔ یہ جراثیم عام طور پر مسوڑھوں کی دائمی بیماری (Periodontitis) سے منسلک ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب مسوڑھے سوجن یا زخمی ہوتے ہیں تو یہ بیکٹیریا آسانی سے خون کے دھارے میں داخل ہو سکتے ہیں اور وہاں سے دماغ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سرکردہ یونیورسٹیوں اور طبی اداروں کا کہنا ہے کہ ایک بار جب یہ بیکٹیریا دماغ میں داخل ہو جائیں، تو وہ سوزش (Inflammation) کو متحرک کر سکتے ہیں۔ یہی سوزش الزائمر کی بیماری میں پائے جانے والے ایک اہم حیاتیاتی نشان، یعنی Amyloid-beta plaques، کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ پلیکس دماغی خلیات کے درمیان جمع ہو کر یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور فیصلہ سازی کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جرائد، بشمول PNAS (Proceedings of the National Academy of Sciences) میں شائع ہوئی ہے۔ تاہم، ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ نتائج الزائمر کی براہِ راست وجہ ثابت نہیں کرتے، بلکہ ایک مضبوط تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ الزائمر ایک پیچیدہ بیماری ہے جس میں متعدد عوامل شامل ہوتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق، زبانی صحت کو نظرانداز کرنا طویل المدتی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ باقاعدگی سے دانت صاف کرنا، فلوس کا استعمال، اور دانتوں کے معمول کے معائنے نہ صرف مسوڑھوں کی بیماری سے بچاتے ہیں بلکہ نقصان دہ بیکٹیریا کی مقدار کو بھی کم کرتے ہیں۔ ان اقدامات کو اپنانا ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے جو مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دے۔
تاہم، سائنسدان واضح کرتے ہیں کہ الزائمر کے خطرے کے بنیادی عوامل میں جینیات، عمر بڑھنا، طرزِ زندگی، غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور دل کی صحت جیسے عناصر شامل ہیں۔ زبانی حفظان صحت ان تمام عوامل میں سے صرف ایک ایسا پہلو ہے جسے کسی حد تک روکا یا بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
آخرکار، ماہرین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اگرچہ اچھی زبانی صحت الزائمر سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی، لیکن یہ دماغی صحت کے تحفظ کی ایک بڑی پہیلی کا اہم اور قابلِ کنٹرول حصہ ضرور ہو سکتی ہے۔ مستقبل کی تحقیق اس تعلق کو مزید واضح کرے گی اور ممکن ہے کہ الزائمر کی روک تھام اور علاج کے نئے راستے کھولے۔



